جرمنی: 70 سے زائد بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں ڈاکٹر کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی میں 70 سے زائد بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں 46 سالہ ماہرِ امراضِ اطفال کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی۔

مزید پڑھیں:جرمنی میں نوجوانوں کا پُرتشدد احتجاج ، فرینکفرٹ میں دکانوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مشرقی جرمنی کے شہر ناوین اور راتینو میں 2013 سے 2025 کے دوران کلینکس میں کام کرنے والے ڈاکٹر پر بچوں کے استحصال سے متعلق 130 سے زائد جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت میں الزامات پڑھ کر سنائے جانے کے بعد ڈاکٹر نے بیشتر واقعات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے سابقہ اعترافات کی توثیق کی اور گہرے احساسِ جرم کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں:صدر مملکت آصف علی زرداری 24 اکتوبر تک جرمنی کے دورے پر رہیں گے

استغاثہ کے مطابق زیادہ تر واقعات میں ڈاکٹر بچوں کے کمروں میں داخل ہوتا اور انہیں کپڑے اتارنے کی ہدایت دیتا، جس کے بعد ان کی تصاویر اور بعض اوقات ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ متاثرہ بچوں کی اکثریت لڑکوں پر مشتمل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا