صدر مملکت آصف علی زرداری 24 اکتوبر تک جرمنی کے دورے پر رہیں گے

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 صدر مملکت آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر 2026 تک جرمنی کا سرکاری دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دورے کے دوران صدر مملکت جرمنی کے صدر، اعلیٰ قیادت اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔

ملاقاتوں میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق صدر مملکت کا دورہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا حصہ ہے اور رواں سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے اس عزم کا عکاس ہے کہ وہ باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انسدادِ دہشتگردی مذاکرات کا 10واں دور، علاقائی اور عالمی پیشرفت کا جائزہ لیا

معرکہِ مظفر آباد: کشمیری جذبہِ حریت، قبائلی رفاقت اور پاکستان سے لازوال وابستگی کی تاریخ ساز علامت

خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑے، دہشتگردوں کو دوبارہ بلانے کا خمیازہ عوام نے بھگتا، وزیراعظم

’آخر ہم خوش کیوں ہو رہے ہیں؟‘ ساشا بیرن کوہن کے پاکستان کو سلام پر زویا ناصر کا ردعمل

نئی آٹو پالیسی: پیٹرول گاڑیاں 10 فیصد، پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں 20 فیصد سے زائد سستی ہونے کا امکان

ویڈیو

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟