لاہور کی فضائی آلودگی میں 15 فیصد کمی، اکتوبر میں ایئر کوالٹی انڈیکس میں 28 فیصد بہتری ریکارڈ

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور میں پنجاب حکومت کے ریئل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ پروگرام کے پہلے مکمل سال کے دوران ہوا کے معیار میں مجموعی طور پر 15 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اکتوبر 2026 میں شہر کا بلند ترین ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 28 فیصد کم رہا۔

یہ اعداد و شمار محکمہ ماحولیاتی تحفظ و موسمیاتی تبدیلی (ای پی سی سی ڈی) کی جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق فضائی آلودگی کے 6 بڑے عناصر میں مجموعی طور پر 15 فیصد خالص بہتری دیکھی گئی ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ ہوا کے معیار میں بہتری کسی ایک عنصر میں تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ فائن پارٹیکیولیٹ میٹر (پی ایم 2.5) سمیت فضائی آلودگی کے 6 اہم عناصر کی سطح میں مجموعی کمی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 میں لاہور میں ایک بھی ایسا دن ریکارڈ نہیں کیا گیا جب ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر کے خطرناک کیٹیگری میں داخل ہوا ہو، جبکہ اکتوبر 2025 میں ایسے 4 دن ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز کی تعداد 30 سے بڑھ کر 59 ہوگئی

محکمہ ماحولیاتی تحفظ کے مطابق یہ نتائج ریئل ٹائم مانیٹرنگ پروگرام کے پہلے مکمل سال میں زمینی آلات کے ذریعے حاصل کردہ پیمائشوں پر مبنی ہیں۔

پنجاب کے ریئل ٹائم ایئر کوالٹی پورٹل پر پہلی ریڈنگ یکم اکتوبر 2025 کو جاری کی گئی تھی۔ اس وقت صوبے میں ریگولیٹری معیار کے 30 مانیٹرنگ اسٹیشنز کام کر رہے تھے، جن کی تعداد اب بڑھ کر 59 ہوچکی ہے۔

یہ اسٹیشنز مسلسل فضائی آلودگی کے 6 عناصر اور موسم سے متعلق 7 مختلف پیرامیٹرز کی پیمائش کر رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ اسٹیشنز کی تعداد 100 تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے، تاکہ صوبے بھر میں ہوا کے معیار کی نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

محکمے کے مطابق مانیٹرنگ نیٹ ورک میں توسیع سے حکام کو زمینی حقائق اور درست پیمائشوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ نظام کم قیمت والے غیر ریگولیٹری سینسرز اور سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔

کم بارشوں کے باوجود لاہور کی فضائی صورتحال میں بہتری

رپورٹ میں موسمی حالات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ پاکستان میٹروولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2026 میں لاہور میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 50 فیصد کم بارش ہوئی۔

محکمہ ماحولیاتی تحفظ کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کی فضائی صورتحال میں بہتری نسبتاً خشک موسمی حالات کے باوجود ریکارڈ کی گئی۔

فضائی آلودگی کے تجزیے میں ایٹموسفیرک باؤنڈری لیئر، جسے مکسنگ ہائیٹ بھی کہا جاتا ہے، ایک اہم عنصر ہے۔ یہ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ فضا میں آلودگی کو پھیلنے اور تحلیل ہونے کے لیے کتنی جگہ دستیاب ہے۔

سپارکو کی جانب سے لاہور میں سیلو میٹر کے ذریعے کی گئی زمینی پیمائشوں کے مطابق موازنے کے دوران کم از کم مکسنگ لیئر کی اونچائی میں صرف 10 میٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمے نے پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو (پی اے کیو آئی) کے اس دعوے پر اعتراض کیا ہے جس میں مکسنگ لیئر کی اونچائی میں 25 میٹر اضافے کا ذکر کیا گیا تھا۔

ای پی سی سی ڈی کے مطابق مقامی سطح پر فضائی آلودگی کم کرنے کے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے زمینی آلات سے حاصل کردہ پیمائشیں زیادہ موزوں ہیں۔

محکمے نے جنوری 2026 میں شائع ہونے والی ایک ہم مرتبہ نظرثانی شدہ تحقیق کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں مانسون کے علاقے میں ای آر اے 5 ری اینالیسس ڈیٹا کے اندر 200 سے 500 میٹر تک کے منظم تعصبات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

612 الیکٹرک بسیں متعارف، 5 لاکھ گاڑیوں کے اخراج کی جانچ

پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی میں کمی کے لیے مانیٹرنگ کے ساتھ ٹرانسپورٹ، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور زرعی باقیات جلانے کے واقعات کی روک تھام پر مشتمل کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی پر بھی عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 612 الیکٹرک بسیں متعارف کرائی گئی ہیں، جبکہ الیکٹرک بائکس کی فراہمی اور ٹریفک مینجمنٹ میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس دوران تقریباً 5 لاکھ گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں اور دیگر اخراج کی جانچ کی گئی، جبکہ بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو اخراج اور فٹنس سرٹیفیکیشن کے تقاضوں کی خلاف ورزی پر 800 سے زائد قانونی نوٹس جاری کیے گئے۔

حکومت نے کلین موبیلٹی حکمت عملی کے تحت الیکٹرک بسوں کی تعداد بڑھا کر 3 ہزار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

صنعتی آلودگی کے خلاف کارروائیاں، ٹائر پائرولیسس پلانٹس پر پابندی

صنعتی شعبے میں انوائرنمنٹ پروٹیکشن فورس نے پنجاب بھر میں 600 سے زائد مقامات پر صنعتی اخراج، ایندھن کے معیار اور فگیٹو ڈسٹ کنٹرول سسٹمز کی نگرانی کی۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ دھواں خارج کرنے والی صنعتوں اور غیر مجاز ایندھن استعمال کرنے والے صنعتی یونٹس کو کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی طرح ٹائر پائرولیسس پلانٹس کے آپریشن اور کاربن پاؤڈر کو صنعتی ایندھن کے طور پر استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں ایک تہائی کمی

زرعی شعبے میں بھی فضائی آلودگی کم کرنے کے اقدامات کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پروگرام کے پہلے سال کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں ایک تہائی کمی ریکارڈ کی گئی۔

حکومت نے اس مقصد کے لیے کسانوں کو سبسڈی پر 10 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے، جن کی مدد سے فصلوں کی باقیات کو جلائے بغیر زمین کی تیاری اور اگلی فصل کی کاشت ممکن بنائی جاتی ہے۔

پنجاب حکومت نے سبسڈی پر فراہم کیے جانے والے سپر سیڈرز کی تعداد بڑھا کر 25 ہزار کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

اس کے علاوہ کبوٹا ہارویسٹرز سمیت دیگر مشینی طریقے متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاکہ کھلے مقامات پر فصلوں کی باقیات جلانے کی حوصلہ شکنی کی جاسکے اور ان باقیات کو صنعتی ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے۔

کوئلے کی کھپت کی شرح نمو میں 14.2 فیصد کمی

رپورٹ میں محکمہ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے تازہ ترین اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کوئلے کی کھپت کی سالانہ مرکب شرح نمو میں 14.2 فیصد کمی آئی ہے۔

اسی طرح پنجاب میں 95 فیصد سے زائد اینٹوں کے بھٹوں نے زگ زیگ ٹیکنالوجی اختیار کرلی ہے، جس کے نتیجے میں کوئلے کے استعمال اور فضائی اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے۔

فضائی آلودگی میں کمی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت

محکمہ ماحولیاتی تحفظ و موسمیاتی تبدیلی کے مطابق مختلف سرکاری محکموں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون، ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد، صاف ٹرانسپورٹ کے فروغ اور زمینی مانیٹرنگ نیٹ ورک میں توسیع نے پروگرام کے پہلے سال میں سامنے آنے والی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ 2026 کے نتائج آئندہ برسوں میں فضائی معیار میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے اور آلودگی میں کمی کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بنیادی معیار فراہم کریں گے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عوامی صحت کے تحفظ اور لاہور سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں ہوا کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ماحولیاتی قوانین کا مسلسل نفاذ، صاف ایندھن کا استعمال اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی جانب منتقلی ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp