پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے شعبہ اطفال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر محض 8 سیکنڈ میں نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین کی بے مثال شجاعت پر وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں 1 کروڑ روپے کا نقد انعام اور 23 مارچ کو ’تمغہ خدمت‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پمز آتشزدگی واقعے میں اپنی جان پر کھیل کر نومولود کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات
وزیراعظم کا نرس رضیہ نورین کی خدمات کے اعتراف میں 23 مارچ کو تمغۂ خدمت دینے کا اعلان، وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا انعام بھی دیا۔
“آپ نے جس… pic.twitter.com/7ZWFYxm10e
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 3, 2026
جمعرات کو وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ملاقا ت دوران نرس رضیہ نورین نے واقعے کے دردناک مناظر یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے سامنے ‘قیامت’ کا منظر دیکھا اور اس کے شدید ذہنی اثرات کے باعث وہ روزانہ 2 گولیاں کھا کر سونے پر مجبور ہیں۔
’میرے سامنے قیامت گزر گئی‘، نرس کے جذباتی انکشافات
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نرس رضیہ نورین جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں اور اپنے دردناک احساسات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کہتے ہیں قیامت آئے گی، لیکن اس دن میرے سامنے قیامت گزر گئی۔’
یہ بھی پڑھیں:میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ پمز اسپتال اب محفوظ ہے اور مستقبل میں کوئی حادثہ نہیں ہوگا، مصطفیٰ کمال
انہوں نے بتایا کہ اس المناک حادثے کے ذہنی اثرات سے نکلنے میں انہیں سالوں لگیں گے، وہ روزانہ 2 گولیاں کھا کر سوتی ہیں لیکن اس کے باوجود نیند نہیں آتی۔
Nurse Razia Noreen, who saved a newborn during the fire incident at PIMS, meets Prime Minister @CMShehbazhttps://t.co/AcYOJ4rcKd
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 3, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ‘سب سے تکلیف دہ مرحلہ جاں بحق بچوں کی نشاندہی کرنا تھا، مجھے آج بھی یاد آتا ہے کہ میں نے کس بچے کو کس وقت کینولا لگایا تھا۔’
8 سیکنڈ کی جرات اور ریسکیو کا احوال
واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے رضیہ نورین نے بتایا کہ وہ ان کی ادویات دینے کی روٹین کا وقت تھا جب انہوں نے اچانک آگ کی لپٹیں دیکھیں۔
حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے انہوں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اندر چھلانگ لگا دی اور اپنی ساتھی نرس کو بھی بچوں کو بچانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے محض 8 سیکنڈ کے قلیل وقت میں ایک نومولود بچی کو وارڈ سے محفوظ باہر نکال کر ایک واقف کار شخص کے حوالے کیا اور جیسے ہی دوسرے بچوں کو بچانے کے لیے پلٹیں، ایک دم شدید دھماکا ہوا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔
مزید پڑھیں:سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کوئی پیشہ ورانہ ڈرل نہیں کی تھی بلکہ یہ ان کی ذمہ داری اور فرض شناسی تھی، جبکہ بچی کے والدین کی شکرگزاری اور دعاؤں نے انہیں آبدیدہ کر دیا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات اور صدارتی اعزاز کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے نرس رضیہ نورین کو خصوصی طور پر وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا، جہاں انہوں نے نرس کو ’قوم کی بیٹی‘ اور ’قوم کا فخر‘ قرار دیتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اعلان کیا کہ 23 مارچ کو رضیہ نورین کو ’تمغہ خدمت‘ دیا جائے گا جبکہ ان کے لیے 1 کروڑ روپے کا انعام بھی جاری کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘آپ نے جرات اور ہمت سے کام لے کر عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے، جس ماں کے بچے کو آپ نے بچایا ہے وہ تمام عمر آپ کو دعائیں دے گی۔’
یہ بھی پڑھیں:پمز آتشزدگی: نومولود بچوں کو بچانے کے لیے کیا فائر سیفٹی پروٹوکول ہونا چاہیے تھا؟
اس موقع پر نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم ہاؤس کی دعوت اور اس پذیرائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے لیے باعثِ عزت قرار دیا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کا ایک بڑا اور مرکزی سرکاری اسپتال ہے، جہاں حال ہی میں شعبہ بچوں (نومولود وارڈ) میں اچانک آتشزدگی کا ہولناک واقعہ پیش آیا۔
اس حادثے میں دھوئیں اور آگ کے باعث معصوم جانوں کا نقصان ہوا، تاہم ہسپتال کے عملے بالخصوص نرس رضیہ نورین کی فوری کارروائی اور بے خوفی نے کئی مزید بچوں کی جانیں بچا لیں۔ اس جرات مندانہ اقدام کو ملکی اور قومی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔














