دنیا بھر میں پھلوں اور فصلوں کی نئی اقسام متعارف ہونے کے ساتھ بعض ایسی مقامی اور روایتی اقسام بھی وقت کے ساتھ معدوم ہوتی جا رہی ہیں جنہیں کبھی بڑے شوق سے کاشت کیا جاتا تھا۔ ان میں سے کچھ اقسام اپنے منفرد ذائقے، ساخت اور تاریخی اہمیت کے باعث خاص پہچان رکھتی تھیں لیکن بدلتے ہوئے زرعی رجحانات اور تجارتی ضروریات نے انہیں رفتہ رفتہ نظروں سے اوجھل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سمندر نے اچانک سیب اُگل دیے، امریکی ساحل پر پراسرار منظر
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایسے افراد کی ایک ٹیم موجود ہے جو کسی جاسوس کی طرح ان گمشدہ اقسام کی تلاش میں مصروف ہے۔ ان کا نشانہ کوئی مجرم نہیں بلکہ سیب کی وہ نایاب اقسام ہیں جو کئی دہائیوں یا صدیوں پہلے کاشت کی جاتی تھیں لیکن اب بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔
برطانیہ کی کاؤنٹی ہیمپشائر میں ان سیبوں کی تلاش کے لیے باقاعدہ ایک فہرست تیار کی گئی ہے جس میں لارڈ رابرٹس، سر بینجمن بیکر، ایڈتھ اور سر ڈگلس ہیگ جیسی اقسام شامل ہیں۔
اس منفرد مہم میں شامل افراد کو دلچسپ انداز میں ’ایپل ڈیٹیکٹوز‘ یعنی سیب کے جاسوس کہا جاتا ہے جو پرانے باغات، گھروں اور دیگر مقامات پر ان نایاب پھلوں کی تلاش کرتے ہیں۔
سیب کی اقسام کا 8 سالہ تحقیقی منصوبہ
ہیمپشائر اور آئل آف وائٹ میں سیب کی تاریخی اقسام کو محفوظ کرنے کے لیے اسپارشولٹ کالج میں قائم قومی نباتاتی ذخیرے کے نگران کرس برڈ اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔
اپنے ساتھیوں اور طلبہ میں ’مسٹر ایپل‘ کے نام سے مشہور کرس برڈ کے مطابق ان کی ٹیم تقریباً 8 برس سے اس منصوبے پر کام کر رہی ہے تاکہ سیب کی قومی سطح پر محفوظ کی جانے والی اقسام میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سیب کی بہت سی اقسام ایسے زمانے میں تیار کی گئی تھیں جب گھروں میں فریج اور فریزر عام نہیں تھے اس لیے ان کی کاشت اور برداشت کا وقت اس انداز سے مقرر کیا جاتا تھا کہ سال کے مختلف مہینوں میں تازہ پھل دستیاب رہ سکے۔
کرس برڈ کے مطابق آج سیب کی بعض اقسام جولائی کے آخر میں تیار ہو جاتی ہیں جب کہ مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے کی صورت میں ان کی دستیابی اگلے سال مئی تک برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ میں موسم خزاں کے سیبوں کی بہار
ان کے مطابق اکتوبر اور نومبر سیب کی برداشت کے لیے بہترین مہینے ہیں، تاہم بعض تاریخی اقسام ایسی بھی ہیں جنہیں اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ وہ موسم بہار حتیٰ کہ ایسٹر کے تہوار کے آس پاس کھانے کے قابل ہوتی تھیں۔
ایسی ہی ایک قسم ’ایسٹر اورنج‘ ہے جسے سنہ 1897 میں ونچسٹر کی کمپنی ہلیئر اینڈ سنز نے متعارف کرایا تھا۔ اس کا مقصد موسم خزاں کی بڑی فصل کے بعد بھی لوگوں کو تازہ سیب فراہم کرنا تھا۔
کرس برڈ اسے محض ایک پھل نہیں بلکہ زندہ تاریخ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق سیب کی ایک اور پرانی قسم ’کیٹس ہیڈ‘ بھی ہے جو شاہی دورِ حکومت میں خاصی عام تھی۔ اس قسم کو چکھنے سے آج کے لوگوں کو اس دور کے ذائقوں اور ساخت کا تجربہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ہر علاقے کے سیب کا اپنا ذائقہ اور تاریخ
کرس برڈ کے مطابق ہیمپشائر اور آئل آف وائٹ میں کاشت ہونے والی بہت سی تاریخی اقسام حیرت انگیز طور پر سخت جان ہیں اور بدلتے موسمی حالات کے باوجود اچھی پیداوار دے رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض اقسام کو خاص طور پر مقامی زمین اور آب و ہوا کے مطابق تیار کیا گیا تھا اس لیے انہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ان سیبوں کے ذائقوں اور ساخت میں حیرت انگیز تنوع پایا جاتا ہے لیکن بہت سے لوگ اس بات سے واقف ہی نہیں کہ سیب کی کتنی مختلف اقسام موجود ہو سکتی ہیں۔
ہیمپشائر کی تاریخی اقسام میں ’سر جان تھورنیکرافٹ‘ بھی شامل ہے، جسے 1930 کی دہائی میں لیڈی تھورنیکرافٹ نے تیار کیا تھا اور اپنے شوہر کے نام پر رکھا تھا۔
کرس برڈ کے مطابق آئل آف وائٹ کا علاقہ بیم برج ماضی میں سیب کی نئی اقسام تیار کرنے کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ لیڈی تھورنیکرافٹ نے بھی وہاں اپنے مرکزی مالی مسٹر کولسٹر کے ساتھ مل کر کئی اقسام پر کام کیا تھا۔
اس علاقے کی ایک اور قسم نے تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی جگہ بنائی تھی، کیونکہ اس کا ایک پھل تقریباً 2.2 پاؤنڈ یعنی ایک کلوگرام کے قریب وزنی تھا۔
تاہم سیب کی گمشدہ اقسام کی تلاش ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ کرس برڈ کے مطابق ان کی ٹیم کو اب بھی لیڈی تھورنیکرافٹ کی تیار کردہ 3 ایسی اقسام تلاش کرنا ہیں جو قومی ذخیرے میں موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: سیب اور ہینڈ واش کی چوری، لاہور میں پاکستانی تاریخ کا دلچسپ مقدمہ درج
اسی طرح ساؤتھمپٹن کے علاقے میں پائی جانے والی مشہور قسم ’باسیٹ بیوٹی‘ کی تلاش بھی جاری ہے۔
سیب سے خاندانی یادیں اور مقامی تاریخ جڑی ہے
اس مہم میں ساؤتھمپٹن کے شالنگ ویلیز اسٹڈی سینٹر سے وابستہ میک انس بھی شامل ہیں، جو پرانے باغات اور گھروں میں سیب کی نایاب اقسام تلاش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق سیب سے ان کی دلچسپی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ 20 برس کے تھے اور اپنے والد کے ساتھ مل کر سیب سے رس نکالتے اور پھر اسے سائڈر بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے سیب صرف ایک پھل نہیں بلکہ خاندان اور مقامی برادری سے جڑی ایک اہم یاد ہے۔
میک انس کے مطابق برطانیہ میں ماضی میں باغبانی کے شوقین افراد کی بڑی تعداد موجود تھی، جو سیب کی نئی اور منفرد اقسام تیار کرنے کے لیے مختلف درختوں کی شاخوں سے پیوند کاری کرتے اور اپنی پسند کے پھل کاشت کرتے تھے۔
اس طرح سیب کی بہت سی منفرد اقسام سامنے آئیں، جنہیں خوبصورت اور دلچسپ نام بھی دیے گئے، جیسے ’بیوٹی آف ہیمپشائر‘۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض اقسام صرف آئل آف وائٹ میں ملتی تھیں، جب کہ کچھ مخصوص علاقوں تک محدود تھیں۔ ان پرانی اقسام کو دوبارہ تلاش کرنا دراصل اپنے علاقے اور اس کی زرعی تاریخ سے تعلق بحال کرنے جیسا ہے۔
نایاب پھلوں کو محفوظ رکھنا کیوں ضروری ہے؟
اس مہم سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ کسی پھل کی اہمیت صرف اس کی تجارتی پیداوار یا ظاہری شکل تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ مقامی تاریخ، ثقافت، ذائقے اور روایتی کاشت کاری کے طریقے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔
پھلوں کی تاریخی اقسام کو محفوظ رکھنے سے نہ صرف ماضی کے منفرد ذائقے آئندہ نسلوں تک منتقل کیے جا سکتے ہیں بلکہ مختلف علاقوں کی آب و ہوا اور زمین کے مطابق پروان چڑھنے والی نباتاتی اقسام کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا واقعی روزانہ سیب کھانے سے ڈاکٹر سے دور رہا جا سکتا ہے؟
ہیمپشائر کے یہ ’سیب جاسوس‘ اسی مقصد کے تحت ان پھلوں کی تلاش میں ہیں جو کبھی لوگوں کے باغات کی رونق ہوا کرتے تھے لیکن اب ان کے نام اور وجود تک لوگوں کی یادداشت سے مٹتے جا رہے ہیں۔











