کوئٹہ میں موسم خزاں کے سیبوں کی بہار

اتوار 8 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وادی کوئٹہ کو دنیا بھر میں پھلوں کی ٹوکری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ قدرت نے اس خطے کو کچھ اس انداز میں نوازا ہے کہ مختلف اقسام کے پھل یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ ان دنوں کوئٹہ میں موسم خزاں کی آمد آمد ہے۔ ایسے میں آڑو، سیب، انگور، کیلا اور ناشپاتی جیسے پھل مارکیٹ میں انٹری لے چکے ہیں۔ ان پھلوں میں سیب اس وقت خریداروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

وادی کوئٹہ میں گاجا اور طور کولو سیب ریڑیوں پر موجود ہیں۔ یہ کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ہنہ اوڑک، زیارت، پیشن اور قلعہ عبداللہ سے فروٹ منڈیوں تک پہنچے ہیں۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے فروٹ فروشوں کا کہنا ہے کہ اس وقت 2 اقسام کے سیب مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں طور کولو اور گاجا شامل ہیں۔ موسم خزاں کے ابتدا میں اس اقسام کے سیب بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں بھجوائے جاتے ہیں۔ ان سیبوں کی خاص بات یہ ہے کہ رسیلے اور ذائقے میں بہت مزیدار ہوتے ہیں

فروٹ فروشوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کی مارکیٹ میں طور کولو سیب 100 سے 150 جبکہ گاجا سیب 25 سے 35 روپے فی کلو کے درمیان میں فروخت ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘