انسان جب کئی ٹائم زونز عبور کرکے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچتا ہے تو اکثر اس کی جسمانی گھڑی نئے وقت کے ساتھ فوراً ہم آہنگ نہیں ہو پاتی۔ اس کیفیت کو جیٹ لیگ کہا جاتا ہے جس میں جسم کو نیند کا وقت محسوس ہوتا ہے جبکہ گھڑی کے مطابق دن چڑھا ہوتا ہے۔ اب سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے سمندری پرندے بھی اس کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طویل فضائی سفر کے بعد ’جیٹ لیگ‘ جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق شمالی بحر اوقیانوس میں پائے جانے والے ’مینکس شیئر واٹرز‘ جب خوراک کی تلاش میں دور سمندر تک جاتے اور واپس اپنے گھونسلوں کی طرف آتے ہیں تو ان کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی مقامی وقت سے پیچھے رہ جاتی ہے۔ اس معمولی فرق کا اثر ان کی سورج کی مدد سے راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت پر بھی پڑتا ہے اور وہ اپنے اصل راستے سے کچھ ہٹ جاتے ہیں۔
سورج کو کمپاس بنانے والے پرندے
تحقیق کے مرکزی مصنف اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ رویّوں اور حسی ماحولیات کے ماہر پیٹرک لیون کے مطابق مینکس شیئر واٹر درمیانے جسامت کے پرندے ہیں جو تقریباً کبوتر جتنے ہوتے ہیں۔ ان کا جسم نیچے سے سفید اور اوپر سے سیاہ ہوتا ہے، جبکہ ان کے پر لمبے ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق الباٹروس جیسے سمندری پرندوں کے خاندان سے ہے۔
🐦 Thousands of birds put on a breathtaking aerial show in China — creating giant “bird waves” in the sky
The spectacular sight was captured at the Yellow River Delta National Nature Reserve in China's Shandong Province.
Thousands of migratory birds suddenly took to the skies,… pic.twitter.com/VTLczHxCL8
— NEXTA (@nexta_tv) October 9, 2026
یہ پرندے شمالی بحرِ اوقیانوس کے ساحلی جزیروں پر زمین کے اندر بلوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد برطانیہ اور آئرلینڈ کے ساحلوں کے قریب افزائشِ نسل کرتی ہے جن میں سے تقریباً نصف آبادی ویلز میں پائی جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں یہ اپنے گھونسلوں سے کئی درجن کلومیٹر سے لے کر ایک ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ دور سمندر میں نکل جاتے ہیں۔
واپس اپنے گھونسلوں تک پہنچنے کے لیے یہ پرندے پہلے اپنی موجودہ جگہ کا اندازہ لگاتے ہیں جس میں ممکنہ طور پر سونگھنے کی حس بھی مدد دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ سورج کو بطور کمپاس استعمال کرتے ہوئے اپنی سمت طے کرتے ہیں۔
لیکن سورج کی مدد سے راستہ تلاش کرنے میں ایک مشکل ہے۔ سورج دن بھر آسمان پر اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی پرندے کو پورا دن جنوب کی جانب سفر کرنا ہو تو صبح سورج مشرق میں ہوگا، دوپہر کو تقریباً اس کے سامنے اور شام کو مغرب کی طرف۔ اس لیے پرندے کو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ دن کا کون سا وقت ہے، تاکہ وہ سورج کی موجودہ پوزیشن کے مطابق اپنی سمت درست رکھ سکے۔
مزید پڑھیے: پرندے محض کھڑکی سے بھی دیکھنا یادداشت کے لیے مفید، جانیے اس مخلوق سے انسیت کے دیگر فوائد
تقریباً تمام جانوروں کی طرح ان پرندوں کے جسم میں بھی ایک قدرتی گھڑی موجود ہوتی ہے، لیکن یہ گھڑی ہمیشہ مقامی وقت کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ نہیں رہتی۔
اندرونی گھڑی وقت سے پیچھے رہ جائے تو کیا ہوتا ہے؟
مینکس شیئر واٹر اپنی اندرونی گھڑی کو ہر صبح طلوعِ آفتاب اور ہر شام غروب آفتاب کے وقت دوبارہ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ تاہم دن کے دوران جب وہ مشرق یا مغرب کی جانب سفر کرتے ہیں تو ان کی جسمانی گھڑی مقامی وقت سے پیچھے رہنے لگتی ہے۔
تحقیق کے مطابق پرندہ دن کی روشنی میں طول البلد کی ہر ایک ڈگری عبور کرنے پر اپنی اندرونی گھڑی کے حساب سے تقریباً چار منٹ پیچھے رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً اسے سورج کی پوزیشن کا درست اندازہ نہیں رہتا اور اس کا قدرتی کمپاس غلط سمت بتانے لگتا ہے۔
اگر پرندہ مشرق کی طرف سفر کر رہا ہو تو وہ اپنے اصل راستے سے گھڑی کی سمت میں کچھ ہٹ سکتا ہے جبکہ مغرب کی جانب سفر کرنے پر اس کا رخ اس کے برعکس متاثر ہوتا ہے۔
سائنس دان اس سے پہلے بھی دوسرے پرندوں میں اس طرح کے اثرات دیکھ چکے ہیں۔ ایک تجربے میں پینگوئنز کو پکڑ کر طول البلد کی مختلف پوزیشنوں پر منتقل کیا گیا تھا، لیکن جنگلی پرندوں میں ان کی اپنی مرضی سے کیے گئے طویل سفر کے دوران اس اثر کو واضح طور پر ثابت کرنا مشکل تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وقت کا فرق بہت معمولی ہوتا ہے اور اسے سمجھنے کے لیے بڑی تعداد میں اعداد و شمار درکار ہوتے ہیں۔
20 سال کے ریکارڈ نے راز کھول دیا
پیٹرک لیون اور ان کے ساتھیوں کو اس مقصد کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے جمع کیے گئے تقریباً دو دہائیوں کے اعداد و شمار دستیاب تھے۔
ٹم گلڈفورڈ اور مینکس شیئر واٹرز پر طویل عرصے سے تحقیق کرنے والے کرس پیرنز نے سنہ 2004 میں ان پرندوں کے ساتھ جی پی ایس آلات لگانا شروع کیے تھے۔ اس وقت یہ آلات اتنے چھوٹے ہوچکے تھے کہ ان پرندوں کے جسم پر لگائے جا سکتے تھے۔
اگلے 20 برسوں کے دوران محققین نے برطانیہ کے مغربی ساحلوں کے قریب موجود مختلف گھونسلہ گاہوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار 45 پرندوں کے خوراک کی تلاش میں کیے گئے 3 ہزار 688 دوروں کا ریکارڈ جمع کیا۔ ان میں بعض سفر صرف ایک دن جبکہ کچھ تقریباً 2 ہفتے تک جاری رہے۔
مزید پڑھیں: 600 سال قبل معدوم ہونے والے پرندے کو دوبارہ کرنے کے منصوبے کا آغاز
محققین نے ان اعداد و شمار میں سے ان پروازوں کو الگ کیا جن میں پرندے خوراک تلاش کرنے کے بعد اپنے گھونسلوں کی طرف واپس جا رہے تھے۔ لیون کے مطابق خوراک کی تلاش کے دوران پرندے غوطے لگاتے اور چھوٹی چھوٹی بے ترتیب پروازیں کرتے ہیں لیکن جب وہ واپس جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کا انداز بدل جاتا ہے۔ وہ تیز رفتاری سے تقریباً سیدھی سمت میں مسلسل پرواز کرتے ہیں اور طویل وقفے نہیں لیتے۔
اس کے بعد محققین نے ہر پرندے کے سفر کا جائزہ لیا اور یہ معلوم کیا کہ اس نے آخری بار طلوع آفتاب کہاں دیکھا تھا۔ اس مقام پر اس کی اندرونی گھڑی مقامی وقت کے مطابق ہونی چاہیے تھی۔ پھر جی پی ایس کے ہر نئے مقام پر یہ حساب لگایا گیا کہ پرندہ مشرق یا مغرب کی جانب کتنا سفر کر چکا ہے اور اس کے نتیجے میں سورج کو بطور کمپاس استعمال کرنے کی صلاحیت کتنی متاثر ہونی چاہیے۔

چونکہ سائنس دانوں کو معلوم تھا کہ ہر پرندہ بالآخر اپنے مخصوص گھونسلے میں واپس پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے اس لیے وہ اندازہ لگا سکتے تھے کہ اس کے راستے میں کتنی تبدیلی آئی۔
چند منٹ کا فرق اور سمت میں 15 ڈگری تک تبدیلی
تحقیق میں سامنے آنے والا وقت کا فرق بظاہر بہت معمولی تھا۔ لیون کے مطابق پرندوں کی اندرونی گھڑی اور مقامی وقت کے درمیان زیادہ سے زیادہ تقریباً ایک گھنٹے کا فرق دیکھا گیا جبکہ زیادہ تر صورتوں میں یہ فرق 10 سے 15 منٹ کے درمیان تھا۔
انسان کے لیے شاید اتنا فرق محسوس کرنا بھی مشکل ہو لیکن پرندوں کے سورج پر مبنی کمپاس میں اس کے اثرات واضح طور پر ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔
محققین نے خشکی سے دور سمندر میں واپسی کے 335 سفروں کا جائزہ لیا۔ ان میں پرندوں کی سمت میں آنے والی تبدیلی تقریباً وہی تھی جس کی پیشگوئی سورج پر مبنی کمپاس کے حساب سے کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر کے مچھیارہ نیشنل پارک میں نایاب پرندے ریاڑ کی تعداد دوگنی کیسے ہوگئی؟
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے اس سے قطعی طور پر یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ راستے سے ہٹنے کی واحد وجہ اندرونی گھڑی کا پیچھے رہ جانا ہی تھی۔ ٹیم نے تیز ہواؤں، زمین کی گردش کے اثر اور مقناطیسی کمپاس کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا، لیکن ان عوامل سے حاصل ہونے والے نتائج پرندوں کی سمت میں دیکھی گئی تبدیلی کی اتنی بہتر وضاحت نہیں کرتے تھے جتنی سورج پر مبنی کمپاس کی پیش گوئی کرتی تھی۔
تحقیق کے مطابق اس وجہ سے پرندوں کی سمت میں تقریباً 15 ڈگری تک فرق آ سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے گھونسلوں تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
اگر کوئی پرندہ ایک دن میں ایک ہزار کلومیٹر مشرق کی طرف سفر کرے تو اس کے راستے میں اوسطاً تقریباً 7 ڈگری کی تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم اگر وہ دوران سفر اپنی پوزیشن کا اندازہ لگاتا رہے تو اسے اپنی سمت درست کرنے کے لیے صرف معمولی اضافی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ محققین کے حساب سے اس صورت میں سفر تقریباً پانچ کلومیٹر بڑھ سکتا ہے۔
پرندے راستہ تلاش کرنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقے استعمال کرتے ہیں؟
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جب مینکس شیئر واٹر ساحلی علاقوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں تو ان کی سمت میں معمولی تبدیلی کے باعث وہ کبھی ساحل کے قریب اور کبھی اس سے کچھ دور ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘، 74 سالہ پرندے کے ہاں چوزے کی آمد متوقع
آکسفورڈ یونیورسٹی میں تقریباً 2 دہائیاں قبل کیے گئے ایک اور مطالعے میں بھی سامنے آیا تھا کہ اگر کبوتروں کی اندرونی گھڑی تبدیل کردی جائے تو وہ کسی مانوس سڑک یا راستے کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے بھی اپنی سمت میں معمولی تبدیلی دکھاتے ہیں۔
اس سے سائنس دانوں نے یہ خیال پیش کیا کہ پرندوں کے پاس راستہ تلاش کرنے کے 2 متوازی نظام ہوسکتے ہیں۔ ایک سورج یا دوسرے قدرتی اشاروں کی مدد سے سمت کا تعین کرتا ہے جبکہ دوسرا مانوس مقامات اور زمینی نشانیوں پر انحصار کرتا ہے۔ ممکن ہے پرندے دونوں طریقوں کو بیک وقت استعمال کرتے ہوں۔
لیون کے مطابق اس حوالے سے ابھی بہت سے سوالات موجود ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پرندوں کو ساحلی علاقے میں اپنی درست پوزیشن کا علم نہ ہو اور وہ سورج کی مدد سے یہ طے کرتے ہوں کہ ساحل کے ساتھ کس سمت میں آگے بڑھنا ہے۔
ان کے خیال میں یہ سوال خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ سائنس دان قدرتی نظاموں سے متاثر ہوکر خودکار نیویگیشن ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کیا پرندوں کو جیٹ لیگ کی دوسری علامات بھی ہوتی ہیں؟
اس تحقیق سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کیا مینکس شیئر واٹرز کو جیٹ لیگ کی دیگر علامات بھی محسوس ہوتی ہیں، مثلاً نیند میں خلل یا غیرمعمولی اوقات میں بھوک لگنا۔
لیون کے مطابق ان کی ٹیم ابھی اس پہلو کا جائزہ نہیں لے سکی۔ مستقبل میں محققین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اندرونی گھڑی میں تبدیلی سے پرندوں کے خوراک تلاش کرنے کے اوقات، اپنے گھونسلوں تک خوراک پہنچانے کی مقدار اور افزائشِ نسل کی کامیابی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
سائنس دان یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کیا دوسرے جانور بھی معمول کے مطابق جیٹ لیگ کا سامنا کرتے ہیں۔ لیون کے خیال میں ایسا ممکن ہے کیونکہ کوئی بھی ایسا جاندار جس کے جسم میں اندرونی گھڑی موجود ہو اور جو ایک دن میں مشرق یا مغرب کی جانب کافی فاصلہ طے کرے اس کیفیت سے متاثر ہوسکتا ہے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر اڑنے والے جانوروں یا قطبی علاقوں کے قریب رہنے والے جانداروں میں زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں طول البلد کی لکیریں ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: پرندے پالنا صرف شوق نہیں، کاروبار کا بہترین ذریعہ بھی
لیون کے مطابق انسانوں میں بار بار جیٹ لیگ کا سامنا طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لیے سائنس دان یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو جانور مسلسل اس کیفیت سے گزرتے ہیں، انہوں نے اس سے نمٹنے کے لیے کون سے قدرتی طریقے اختیار کیے ہیں۔ ممکن ہے مستقبل میں ان جانوروں کے مطالعے سے انسانوں کے لیے بھی جیٹ لیگ کے اثرات کم کرنے کے طریقے سامنے آئیں۔
پاکستان آنے والے مہمان پرندے کہاں سے آتے ہیں اور کب پہنچتے ہیں؟
پاکستان میں بھی ہر سال سردیوں کے آغاز پر لاکھوں مہمان پرندے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آتے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد سائبیریا، روس، وسطی ایشیا اور شمالی یوریشیا کے سرد علاقوں سے روانہ ہوتی ہے جہاں شدید سردی کے باعث خوراک کی دستیابی مشکل ہوجاتی ہے۔ یہ پرندے نسبتاً گرم موسم اور خوراک کی تلاش میں جنوب کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ پاکستان میں ان کی آمد عموماً ستمبر سے نومبر کے دوران شروع ہوتی ہے، جبکہ فروری اور مارچ میں یہ اپنے آبائی علاقوں کی طرف واپس روانہ ہونے لگتے ہیں۔
ان پرندوں کی آمد کے لیے پاکستان کا دریائے سندھ کا راستہ انتہائی اہم ہے جسے انڈس فلائی وے یا عالمی سطح پر نقل مکانی کا چوتھا راستہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پرندے سائبیریا اور وسطی ایشیا سے قازقستان اور افغانستان کے راستے پاکستان پہنچتے ہیں اور بعض مقامات پر قراقرم، ہندوکش اور سلیمان کے پہاڑی سلسلوں سے گزرتے ہوئے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ جنوب کی جانب سفر کرتے ہیں۔ اس راستے پر ان کا سفر تقریباً ساڑھے 4 ہزار کلومیٹر تک ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی جھیلیں، ڈیم، دریا، دلدلی علاقے اور ساحلی آبی مقامات ان کے لیے خوراک اور آرام کے اہم ٹھکانے بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟
پاکستان میں سردیوں کے دوران آنے والے مہمان پرندوں میں بطخیں، مرغابیاں، کونجیں، ہنس، فلیمنگو، بگلے، آبی پرندے اور مختلف اقسام کے ساحلی پرندے شامل ہیں۔ سندھ میں ہالیجی اور کینجھر جھیلیں، منچھر جھیل اور انڈس ڈیلٹا، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چشمہ جھیل، تربیلا ڈیم اور دیگر آبی مقامات ان کے اہم مسکن ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے گرد بھی راول ڈیم، ایوب پارک، دریائے سواں اور دیگر آبی مقامات پر سردیوں میں مہمان پرندے دیکھے جاسکتے ہیں۔











