مصنوعی ذہانت کا نظام طبی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نکل گیا

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی کمپنی مائیکروسافٹ کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نظام نے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص کے تجربے میں ڈاکٹروں کے مقابلے میں نمایاں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:دودھ اور واشنگ مشین تک اے آئی سے زیادہ سخت قوانین کے تابع ہیں، صدر مائیکروسافٹ

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت کے نظام ’ایم اے آئی ڈائیگناسٹک آرکیسٹریٹر‘ (MAI-DxO) نے ایک تحقیقی تجربے میں پیچیدہ طبی کیسز میں 83 فیصد درست تشخیص کی، جبکہ طبی حوالہ جاتی مواد اور انٹرنیٹ سے مدد لینے والے عمومی معالجین کی درست تشخیص کی شرح 36 فیصد رہی۔

یہ تحقیق 22 اکتوبر کو سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی، جس میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے 304 پیچیدہ طبی کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران مصنوعی ذہانت کے نظام نے مختلف بیماریوں کی علامات کا تجزیہ کیا، مزید سوالات کیے اور تشخیص کے لیے ضروری طبی ٹیسٹ تجویز کیے۔

مائیکروسافٹ کا تیار کردہ یہ نظام متعدد مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس پر مشتمل ہے، جو ڈاکٹروں کے ایک پینل کی طرح مختلف ممکنہ تشخیص پر غور کرتے، ایک دوسرے کے نتائج کا جائزہ لیتے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی رائے بہتر بناتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس نظام نے ہنگامی طبی شعبوں کے تاریخی کیسز میں بھی قریباً 80 فیصد درست تشخیص کی، جبکہ تقابلی جائزے میں شامل ڈاکٹروں کی کارکردگی 47 فیصد رہی۔ محققین نے تشخیصی عمل کے اخراجات کا بھی جائزہ لیا اور بعض تجرباتی صورتوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کم لاگت میں تشخیص ممکن پائی۔

تاہم تحقیق کے نتائج کو حقیقی مریضوں پر ڈاکٹروں کی جگہ مصنوعی ذہانت کی برتری کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ یہ تجربات فرضی طبی کیسز پر کیے گئے تھے اور ان کا موازنہ عمومی معالجین سے کیا گیا، پیچیدہ بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں یا طبی ٹیموں سے نہیں۔

مزید پڑھیں:ہزاروں امریکیوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا الزام، 3 بھارتی کمپنیوں پر پابندی کی تجویز

مائیکروسافٹ نے اس نظام کی حقیقی طبی ماحول میں کارکردگی جانچنے کے لیے امریکی شہر بوسٹن کے بیت اسرائیل ڈیکونس میڈیکل سینٹر کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے، جہاں مریضوں کے علاج کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی تجاویز کا ڈاکٹروں کی تشخیص سے تقابل کیا جائے گا۔

محققین کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں پیچیدہ بیماریوں کی شناخت، غیر ضروری طبی ٹیسٹوں میں کمی اور ڈاکٹروں کو بہتر فیصلوں میں معاونت فراہم کرسکتی ہے، تاہم فی الحال مریضوں کے علاج اور تشخیص کی ذمہ داری ڈاکٹروں ہی کے پاس رہنی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا