چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کو چلانے والے کمپیوٹر ہارڈویئر کو ہیک کرکے چیٹ بوٹس سے غلط اور خطرناک جوابات دلوائے جا سکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہارڈویئر میں ردوبدل کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے نظام کے نتائج اور صارفین کو دیے جانے والے مشورے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سائبر سکیورٹی کمپنی ’ایکلیپسیم‘ کے محققین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام میں استعمال ہونے والی چپس، میموری اور ڈیٹا سینٹر کے سرورز کو نشانہ بنا کر ان کے کام کرنے کے انداز پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ محققین نے یہ تجربہ ٹیکنالوجی کمپنی ’این ویڈیا‘ کے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم پر کیا، تاہم ان کے مطابق یہ خطرہ صرف اسی کمپنی کے ہارڈویئر تک محدود نہیں۔

تحقیق کے دوران محققین نے مصنوعی ذہانت کے ایک ماڈل کے ذریعے تائیوان پر چین کے ممکنہ حملے سے متعلق اندازوں کو تبدیل کیا۔ ایک اور تجربے میں سینے میں درد کی شکایت کرنے والے شخص کو چیٹ بوٹ نے اسپتال جانے کے بجائے گھر پر رہنے کا مشورہ دیا، حالاں کہ ایسی علامات میں فوری طبی امداد ضروری ہوسکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس نوعیت کے حملے کے لیے ہیکر کو ڈیٹا سینٹر کے بعض مخصوص نظاموں تک رسائی درکار ہوتی ہے۔ ان میں ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ اور سرورز کو دور سے کنٹرول کرنے والا نظام شامل ہیں۔ اگر حفاظتی انتظامات غیر مؤثر یا غیر فعال ہوں تو حملہ آور مشین کی میموری میں موجود معلومات اور کوڈ تبدیل کرکے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مصنوعی ذہانت کے رویے پر اثرانداز ہوسکتا ہے، جب کہ صارف کو اس تبدیلی کا علم بھی نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:آپ شاپنگ کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر کتنا بھروسہ کر سکتے ہیں، تحقیق کیا بتاتی ہے؟

این ویڈیا نے کہا ہے کہ مضبوط حفاظتی اقدامات ایسے حملوں کو روک سکتے ہیں اور کمپنی اس تحقیق کے حوالے سے ایکلیپسیم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق اس خطرے سے قومی سلامتی، طبی مشوروں اور حساس معلومات کی درستگی متاثر ہوسکتی ہے۔ محققین نے امریکی قومی سلامتی ایجنسی اور سائبر سکیورٹی ادارے کو بھی اپنے نتائج سے آگاہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp