مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کو چلانے والے کمپیوٹر ہارڈویئر کو ہیک کرکے چیٹ بوٹس سے غلط اور خطرناک جوابات دلوائے جا سکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہارڈویئر میں ردوبدل کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے نظام کے نتائج اور صارفین کو دیے جانے والے مشورے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سائبر سکیورٹی کمپنی ’ایکلیپسیم‘ کے محققین نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام میں استعمال ہونے والی چپس، میموری اور ڈیٹا سینٹر کے سرورز کو نشانہ بنا کر ان کے کام کرنے کے انداز پر اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ محققین نے یہ تجربہ ٹیکنالوجی کمپنی ’این ویڈیا‘ کے کمپیوٹنگ پلیٹ فارم پر کیا، تاہم ان کے مطابق یہ خطرہ صرف اسی کمپنی کے ہارڈویئر تک محدود نہیں۔
The hardware underpinning major AI models can be hacked so that chatbots provide faulty and dangerous answers to questions from users, according to new research shared exclusively with CNN. Read more in link in bio. pic.twitter.com/DcmQJwaSW9
— Scripps News (@scrippsnews) October 30, 2026
تحقیق کے دوران محققین نے مصنوعی ذہانت کے ایک ماڈل کے ذریعے تائیوان پر چین کے ممکنہ حملے سے متعلق اندازوں کو تبدیل کیا۔ ایک اور تجربے میں سینے میں درد کی شکایت کرنے والے شخص کو چیٹ بوٹ نے اسپتال جانے کے بجائے گھر پر رہنے کا مشورہ دیا، حالاں کہ ایسی علامات میں فوری طبی امداد ضروری ہوسکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نوعیت کے حملے کے لیے ہیکر کو ڈیٹا سینٹر کے بعض مخصوص نظاموں تک رسائی درکار ہوتی ہے۔ ان میں ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ اور سرورز کو دور سے کنٹرول کرنے والا نظام شامل ہیں۔ اگر حفاظتی انتظامات غیر مؤثر یا غیر فعال ہوں تو حملہ آور مشین کی میموری میں موجود معلومات اور کوڈ تبدیل کرکے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مصنوعی ذہانت کے رویے پر اثرانداز ہوسکتا ہے، جب کہ صارف کو اس تبدیلی کا علم بھی نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں:آپ شاپنگ کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر کتنا بھروسہ کر سکتے ہیں، تحقیق کیا بتاتی ہے؟
این ویڈیا نے کہا ہے کہ مضبوط حفاظتی اقدامات ایسے حملوں کو روک سکتے ہیں اور کمپنی اس تحقیق کے حوالے سے ایکلیپسیم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق اس خطرے سے قومی سلامتی، طبی مشوروں اور حساس معلومات کی درستگی متاثر ہوسکتی ہے۔ محققین نے امریکی قومی سلامتی ایجنسی اور سائبر سکیورٹی ادارے کو بھی اپنے نتائج سے آگاہ کیا ہے۔











