امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی پیشقدمی کرتے ہوئے کئی ایسی اہم ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں جیت لیں جہاں دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کا مکمل تسلط تھا۔
ڈیموکریٹس نے کینساس، ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا جیسی روایتی ‘ریپبلکن ریاستوں’ میں دہائیوں پرانا تعطل ختم کر کے سینیٹ الیکشن میں سرپرائز کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس نے امریکی سیاست کے روایتی انتخابی نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
امریکی سینیٹ کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی فتوحات حاصل کرتے ہوئے ان ریاستوں میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں جہاں دہائیوں سے ڈیموکریٹک سینیٹر کا انتخاب ممکن نہیں ہو سکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، ٹرمپ کا نتائج قبول کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا اعلان
جن ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی دہائیوں بعد پہلی بار ری پبلیکنز کو بدترین شکست سے دوچار کیا ان میں کینساس سرفہرست ہے جہاں ڈیموکریٹس 1932 میں آخری بار کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے بعد ری پبلیکن پارٹی مسلسل کامیابی حاصل کرتی رہی۔
کینساس میں ایڈم ہیملٹن نے سینیٹ کی نشست جیت کر 94 سال بعد ری پبلیکنز کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔اس اعتبار سے یہ ڈیموکریٹس کی سب سے بڑی اور تاریخی واپسی ہے۔
اسی طرح ٹیکساس سے جیمز ٹیلریک نے کامیابی حاصل کی۔ یہ 1988 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی ڈیموکریٹ رہنما نے ٹیکساس سے امریکی سینیٹ کا الیکشن جیتا ہو۔
این اینڈریوز نے ساؤتھ کیرولائنا سے کامیابی حاصل کر کے 28 سال سے جاری ناکامیوں کا سلسلہ توڑ دیا۔ اس ریاست میں آخری بار 1998 میں فرٹز ہولنگز ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں شکست کے بعد سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق میمز وائرل
رائے کوپر نے نارتھ کیرولائنا سے فتح حاصل کی اور 18 سال بعد اس ریاست سے سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹس کی جھولی میں ڈالی۔ اس سے قبل 2008 میں کے ہیگن یہاں سے منتخب ہونے والی آخری ڈیموکریٹ سینیٹر تھیں۔
جوش ٹوریک نے آئیووا سے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ ٹام ہارکن کے بعد 2008 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے اس ریاست سے سینیٹ کا معرکہ اپنے نام کیا ہے۔











