ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی کے چند گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ پیغام جاری کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی۔
ایلون مسک نے ایکس پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ ’لگتا ہے اس مرتبہ میرے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والے خلائی لیزرز کام نہیں آئے۔‘
Guess my election-interfering space lasers didn’t work this time 🤷♂️
— Elon Musk (@elonmusk) November 4, 2026
ان کے یہ بیانات امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی اور ان کی اپنی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ایلون مسک انتخابی مہم کے دوران ریپبلکنز کے نمایاں حامی رہے جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے صرف ریاست ٹیکساس میں انتخابی سرگرمیوں پر 150 ملین ڈالر سے زائد رقم خرچ کی۔
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی اہم کامیابیوں میں ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا کی کامیابی بھی شامل ہے۔ وہ ریاست میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ
ٹیکساس میں ایلون مسک کی کمپنیوں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی (xAI) کی سرگرمیوں کا دائرہ بھی وسیع ہے۔ ان کمپنیوں کے منصوبوں میں جدید کمپیوٹنگ، چِپ سازی اور ڈیٹا سینٹرز سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے۔
مسک نے اپنی پوسٹس میں گوگل، ایمازون اور میٹا کا براہِ راست نام نہیں لیا، تاہم یہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے ڈیٹا سینٹرز کے نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں۔
Data centers in space looking pretty appealing right now
— Elon Musk (@elonmusk) November 4, 2026
انتخابی نتائج کے مطابق امریکہ کو پہلی سیاہ فام خاتون گورنر، پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر، پہلی مقامی امریکی خاتون سینیٹر اور پہلے کھلے عام ہم جنس پرست مرد سینیٹر کے انتخاب کا اعزاز حاصل ہوا۔
رٹگرز یونیورسٹی کے سینٹر فار امریکن ویمن اینڈ پولیٹکس کے مطابق، امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کے لیے تقریباً 300 خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا۔











