امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں نے مختلف ریاستوں میں کامیابی حاصل کرلی، 5 پاکستانی نژاد سیاستدانوں نے ریاستی قانون ساز اداروں کی نشستیں جیت کر امریکی سیاست میں پاکستانی برادری کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار مریم صبیح نے پنسلوانیا کی ریاستی سینیٹ کے حلقہ 2 سے کامیابی حاصل کی۔ سعید انور کنیکٹیکٹ کی ریاستی سینیٹ کے حلقہ 3 سے دوبارہ منتخب ہوگئے اور اپنی نشست برقرار رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو لے بیٹھی، امریکی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ جنگ بنی، مسعود خان
ٹیکساس میں پاکستانی نژاد سلمان بھوجانی نے ریاستی اسمبلی کے حلقہ 92 سے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 67 فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنے حریف کو شکست دی اور ٹیکساس ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشست برقرار رکھی۔
اسی طرح سلیمان لالانی بھی ٹیکساس کے حلقہ 76 سے دوبارہ منتخب ہوگئے۔ انہوں نے بھی 67 فیصد ووٹ حاصل کرکے ریاستی اسمبلی میں ایک اور مدت کے لیے اپنی جگہ پکی کرلی۔
جارجیا میں پاکستانی نژاد فاروق مغل نے حلقہ 105 سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 60.8 فیصد ووٹ حاصل کرکے ریاستی اسمبلی کی نشست جیت لی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی مڈ ٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کے متعدد بڑے اپ سیٹ، کینساس میں 94 سال بعد کامیابی
رپورٹ کے مطابق مختلف ریاستوں میں ان کامیابیوں کو امریکی سیاست میں پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اور اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کامیابیوں سے ریاستی قانون ساز اداروں میں پاکستانی برادری کی نمائندگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مریم صبیح، پنسلوانیا
مریم صبیح پاکستانی تارکین وطن کی بیٹی ہیں۔ ان کے بارے میں دستیاب مقامی امریکی رپورٹ کے مطابق وہ 3 بچوں کی والدہ، سماجی کارکن اور آزاد صحافی ہیں۔ انہوں نے لیہائی یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔
وہ پنسلوانیا کی ریاستی سینیٹ کے حلقہ 2 سے نہیں بلکہ ریاستی ایوانِ نمائندگان کے حلقہ 131 سے امیدوار ہیں۔ 4 نومبر کو دستیاب غیر حتمی نتائج میں وہ ری پبلکن امیدوار سے آگے تھیں، تاہم انتخابی نتیجہ ابھی باضابطہ طور پر حتمی قرار نہیں دیا گیا تھا۔
سعود انور، کنیکٹیکٹ
سعود انور پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے پھیپھڑوں اور انتہائی نگہداشت کے امراض کے معالج ہیں۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور ییل یونیورسٹی سے صحتِ عامہ میں ماسٹرز کیا۔
وہ 2013 سے 2015 اور پھر 2017 سے 2019 تک ساؤتھ ونڈسر کے میئر بھی رہے۔ 2019 سے کنیکٹیکٹ کی ریاستی سینیٹ کے رکن ہیں۔ 2026 کے انتخابات میں حلقہ 3 سے دوبارہ کامیاب ہوئے اور 66 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
سلمان بھوجانی ، ٹیکساس
سلمان بھوجانی پاکستان میں پیدا ہوئے اور نوعمری میں امریکا منتقل ہوگئے۔ انہوں نے امریکا میں ابتدائی طور پر مختلف کم اجرت والی ملازمتیں کیں، بعدازاں کاروبار شروع کیا اور وکالت کی تعلیم حاصل کرکے وکیل بنے۔
وہ یولیس شہر کی کونسل کے رکن اور ڈپٹی میئر بھی رہے۔ 2023 میں ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے رکن بنے اور پہلے جنوبی ایشیائی اور مسلمان قانون سازوں میں شامل ہوئے۔ ان کا تعلق پاکستان سے ہونا مستند طور پر ثابت ہے، تاہم دستیاب سرکاری سوانح میں ان کے آبائی شہر یا ضلع کی وضاحت نہیں۔
سلیمان لالانی، ٹیکساس
ڈاکٹر سلیمان لالانی کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں امریکا منتقل ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے معالج ہیں اور تقریباً 30 سال سے ٹیکساس میں طب کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
وہ ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے حلقہ 76 کی نمائندگی کرتے ہیں۔ امریکی ریاستی اسمبلی میں پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی ارکان میں شامل ہوئے۔ ان کی سرکاری سوانح میں پاکستان سے امریکا منتقلی کا ذکر ہے، تاہم آبائی شہر یا ضلع کی واضح تصدیق نہیں ملتی۔
فاروق مغل ، جارجیا
فاروق مغل کے والدین پاکستان سے امریکا منتقل ہوئے اور 1995 میں جارجیا کے شہر لارنس ول میں آباد ہوئے۔ فاروق مغل کی پرورش گوینیٹ کاؤنٹی میں ہوئی۔ انہوں نے مرسر یونیورسٹی سے سماجیات میں گریجویشن کیا۔
وہ کاروباری شخصیت، سیاسی مشیر اور حکومتی امور کے ماہر ہیں۔ 2023 سے 2025 تک جارجیا کی ریاستی اسمبلی کے رکن رہے، 2024 کا انتخاب ہار گئے تھے اور 2026 میں دوبارہ امیدوار بنے۔ اس بار حلقہ 105 سے 60.8 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے۔











