لاہور شاہی قلعہ: میں اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی ٹرائل اوپننگ

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور قلعہ میں بدھ کے روز اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی سافٹ لانچنگ ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کے تاریخی والڈ سٹی میں خاتون کا ’خان ڈیرہ‘ چائے پراٹھوں کی پہچان

ان مقامات پر کام ہیریٹیج اینڈ اربن ری جنریشن ٹورازم ڈویلپمنٹ ان لاہور فورٹ اینڈ اٹس بفر زون (ہرل) کے حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔ سنہ 2022 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (اب پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی) اور فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی اے ایف ڈی کا مشترکہ اقدام ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد پی ڈبلیو سی اے کے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) اور آغا خان کلچرل سروس پاکستان کر رہی ہے۔

افتتاحی تقریب میں اے ایف ڈی کی پروجیکٹ ٹیم منیجر اربن ڈویلپمنٹ جولیٹ لی پینرر، اربن ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ احسن پراچہ اور پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی کے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر تنویر ساہو نے شرکت کی۔

‘محبت، تخلیق اور جنون سے بھرپور محنت’

اے کے سی ایس پی ٹیم کی نمائندگی سی ای او توصیف خواجہ، ڈائریکٹر کنزرویشن اینڈ ڈیزائن وجاہت علی، ہیڈ آف کنزرویشن اینڈ پلاننگ شکر اللہ بیگ اور منیجر کنزرویشن اینڈ اربن ڈیزائن ناہید افتخار نے کی۔ دونوں مقامات کا افتتاح ربن کاٹنے کی تقریب سے کیا گیا۔

اس موقعے پر ڈائریکٹر جنرل پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی (پی ڈبلیو سی اے) نجم ثاقب نے کہا کہ اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی بحالی لاہور کے تاریخی مقامات تک عوامی رسائی بہتر بنانے، زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے اور پائیدار معاشی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پی ڈبلیو سی اے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اکبری گیٹ کے دوبارہ کھلنے سے اندرون شہر کا لاہور قلعہ سے رابطہ بحال ہوگا اور کیوریٹر ہاؤس کو ایک ایٹری میں تبدیل کرنا عوام کے لیے ایک نئی کشش فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیے: لہور لہور اے: لاہور شنگھائی تعاون تنظیم کا ثقافتی و سیاحتی دارالحکومت نامزد

مہمان ٹیم پہلے کیوریٹر ہاؤس کے باہر جمع ہوئی یہ وہ پہلی یادگار تھی جس کا افتتاح کیا گیا۔ برطانوی دور میں تعمیر ہونے والا یہ ڈھانچہ قلعہ کے گارڈ روم کے طور پر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور بعد میں انتظامی مقاصد کے لیے استعمال ہوا۔ حال ہی تک کیوریٹر ہاؤس 2 گھروں میں تقسیم تھا جہاں مقامی رہائشی آباد تھے، ڈھانچے کے درمیان سے تقسیم کیا گیا تھا اور کمروں میں متعدد دیواریں شامل کر دی گئی تھیں۔

تاریخی مقامات کی بحالی کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے سی ای او اے کے سی ایس پی توصیف خواجہ نے کہا کہ لاہور قلعہ میں ہماری تکنیکی ٹیموں کی جانب سے کیا گیا کنزرویشن کا کام محبت کا ایک ایسا عمل ہے جو تخلیق، جذبے اور محنت کو یکجا کرتا ہے۔

ایک تنظیم کے طور پر ہم ان تاریخی ڈھانچوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری بھرپور ثقافتی ورثے کی شاندار علامتیں ہیں اور ساتھ ہی مقامی کمیونٹیز کو شامل کرتے ہیں اور اپنی مداخلت کو اس طرح نافذ کرتے ہیں کہ انہیں فائدہ پہنچے۔ ان یادگاروں کے افتتاح کے ساتھ ہم تاریخی علامتوں کو بحال کرنے زیادہ لوگوں کو بہتر ثقافتی جگہیں فراہم کرنے اور اس عمل میں لوگوں کے لیے سازگار معاشی سرگرمی پیدا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

اس کے بعد مہمان وفد اکبری گیٹ پہنچا۔ قلعہ کے اہم داخلی راستوں میں سے ایک اکبری گیٹ کو برطانوی دور میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب اس ڈھانچے کی بحالی مکمل ہو چکی ہے اور مستقبل قریب میں ٹکٹنگ بوتھ شامل کیا جائے گا تاکہ یہ زائرین کے لیے مکمل طور پر آراستہ داخلی راستے کے طور پر کام کرے اور اندرون شہر کے رہائشیوں کو ایک بار پھر آسان رسائی فراہم کرے۔

مزید پڑھیں: قدیم لاہور کی بحالی: سڑکوں، گیٹوں اور عمارتوں کے اصل نام و شکل بحال کرنے کا فیصلہ

ٹیم نے اکبری محل، کالا برج اور برٹش بیرکس کا بھی دورہ کیا تاکہ ان کی بحالی کی پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

پنجاب کے 2حلقوں میں ضمنی انتخابات، پاک فوج اور رینجرز تعینات کرنے کی منظوری

جے یو آئی کو بڑا دھچکا، وفاقی آئینی عدالت نے اہم درخواستیں خارج کردیں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹر تربیلا کا دورہ، خصوصی آپریشنز کی صلاحیتوں کا جائزہ

خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی اسپتالوں میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، بورڈ آف گورنرز کی سربراہی ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو دینے پر غور

ویڈیو

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟