جے یو آئی کو بڑا دھچکا، وفاقی آئینی عدالت نے اہم درخواستیں خارج کردیں

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حنا بی بی کی جانب سے رکن قومی اسمبلی صدف احسان کے خلاف دائر درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیں۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے اپنے ہی امیدواروں کے ساتھ مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمہ آج وفاقی آئینی عدالت میں بالآخر مسترد ہوگیا۔

جے یو آئی (ف) کے سینیئر وکیل کامران مرتضیٰ یہ مقدمہ عدالت میں لے کر آئے تھے، تاہم عدالت کی جانب سے درخواستیں خارج کیے جانے کے بعد انہیں بھی مقدمے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی اور انہیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔

واضح رہے کہ صدف احسان کی مخصوص نشست پر کامیابی کا تنازع 2024 کے عام انتخابات کے بعد اس وقت سامنے آیا تھا جب الیکشن کمیشن نے 4 مارچ کو انہیں خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب قرار دیا تھا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدف احسان پارٹی کی نامزد امیدوار نہیں تھیں اور پارٹی کی ترجیحی فہرست میں صدف یاسمین کا نام شامل تھا۔ جے یو آئی نے یہ نشست حنا بی بی کو دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تنازع سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے صدف احسان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے اپریل 2024 میں یہ معطلی کالعدم قرار دے دی تھی۔

بعد ازاں معاملہ مختلف قانونی مراحل سے گزرا اور جنوری 2026 میں الیکشن کمیشن نے جے یو آئی اور حنا بی بی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے صدف احسان کی رکنیت بحال کردی۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں صدف احسان کی 2018 سے جے یو آئی کی رکنیت سے متعلق دستاویزات کا بھی حوالہ دیا تھا۔

جے یو آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا، تاہم 5 نومبر 2026 کو عدالت نے اپیل خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp