صحتِ عامہ کا انسانی تصور اور نومنتخب امریکی سینیٹر عبدالسید کا نظریہ صحت

جمعہ 6 نومبر 2026
author image

ڈاکٹر ظفر اقبال

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج کے اس مادی دور میں جہاں سرمایہ دارانہ نظام نے زندگی کے ہر شعبے کو نفع اور نقصان کے پیمانے پر پرکھنا شروع کردیا ہے، وہاں صحت اور علاج جیسی بنیادی انسانی ضروریات بھی بڑے کاروباری اداروں کے منافع کمانے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ اس عالمی صورتِ حال میں ڈاکٹر عبدالسید کا صحت سے متعلق نظریہ ایک نئی، انقلابی اور انسان دوست سوچ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہ امریکا کی سینیٹ کے نومنتخب رکن اور صحتِ عامہ کے ماہر ہیں۔

عبدالسید کا طبی نظام محض انتظامی اصلاحات کا منصوبہ یا روایتی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسا متبادل تصور ہے جس میں انسان کو مرکزِ نگاہ رکھا گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور معاشی مفادات کے مقابلے میں انسانی زندگی کو زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ جب تک علاج معالجے کے نظام سے کاروباری لالچ ختم نہیں ہوگا، ایک منصفانہ معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا۔

عبدالسید پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ وہ ڈیٹرائٹ جیسے بڑے شہر کے محکمۂ صحت کی سربراہی بھی کرچکے ہیں۔ اس تجربے کی وجہ سے وہ امریکی دوا ساز کمپنیوں اور نجی طبی بیمہ کمپنیوں کے نظام کو اندر سے سمجھتے ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف ہے کہ موجودہ نظام بیمار اور مجبور لوگوں کی پریشانی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور بڑی کمپنیوں کے منافع میں اضافے کے لیے ادویات اور علاج کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

عبدالسید اس طرزِ عمل کو اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر غلط سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی ملک کی کامیابی کا اندازہ اس کی مجموعی قومی پیداوار یا چند ارب پتی افراد کی دولت سے نہیں، بلکہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ وہاں معاشرے کے غریب اور کمزور لوگوں کو علاج کی کتنی سہولتیں میسر ہیں۔

وہ دوا ساز کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے حامی ہیں اور امریکی سینیٹ میں ایسی قانون سازی کے لیے کوشش کررہے ہیں جس کے ذریعے زندگی بچانے والی ادویات کو منافع خوری سے آزاد کرکے ان کی قیمتیں مناسب سطح پر لائی جاسکیں۔

عبدالسید کا معروف منصوبہ ’میڈی کیئر فار آل‘ یعنی سب کے لیے طبی سہولتیں، اسی عوام دوست سوچ کا عملی نمونہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت نجی بیمہ کمپنیوں کے موجودہ نظام کی جگہ ایسا سرکاری نظام قائم کرنے کی تجویز ہے جس میں ہر شہری کے علاج کی ذمہ داری حکومت اٹھائے۔ موجودہ نظام میں علاج کی سہولت کا انحصار کسی شخص کی مالی حیثیت یا ملازمت پر ہوتا ہے، جبکہ مجوزہ نظام میں ہر شہری کو پیدائش سے موت تک علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔

اس نظام کی سب سے اہم خوبی یہ ہوگی کہ کسی شخص کی ملازمت ختم ہونے یا اس کا تعلق متوسط یا کم آمدنی والے طبقے سے ہونے کی وجہ سے اس کا علاج متاثر نہیں ہوگا۔ عبدالسید کے تصور میں عام طبی علاج کے ساتھ دانتوں، آنکھوں، سماعت اور ذہنی صحت کی سہولتیں بھی شامل ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی جسم کے مختلف حصوں کو الگ الگ سمجھ کر کسی ایک بیماری کا علاج مہنگا اور دوسری کا سستا بنانا غیر انسانی طرزِ عمل ہے۔

اس طبی نظام کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی عبدالسید نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس کی بنیاد ہمدردی اور انصاف پر ہے۔ ان کے مخالفین جب اس منصوبے کو ناقابلِ عمل یا محض خیالی تصور قرار دیتے ہیں تو وہ اس کے جواب میں بڑی کمپنیوں پر ٹیکسوں میں بنیادی اصلاحات اور ارب پتی افراد کی دولت پر خصوصی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ چند انتہائی امیر افراد کی اضافی دولت پر ٹیکس لگا کر لاکھوں غریب لوگوں کو مفت علاج اور ادویات فراہم کرنا اخلاقی اعتبار سے زیادہ بہتر فیصلہ ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نجی کمپنیوں کی تشہیر اور غیر ضروری دفتری کارروائیوں کو ختم کرکے اربوں ڈالر بچائے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سابقہ طبی قرضے فوری طور پر ختم کیے جائیں تاکہ علاج کروانے کے بعد کسی خاندان کو قرض کے بوجھ تلے دب کر اپنا گھر بار نہ چھوڑنا پڑے۔

عبدالسید کے اس تصورِ صحت کا ایک اہم پہلو ماحول کا تحفظ بھی ہے۔ ان کے نزدیک انسانی صحت اور ماحولیاتی انصاف ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ تیل اور گیس کی بڑی کمپنیوں کی مخالفت کرتے ہیں جو مالی فائدے کے لیے ماحول کو آلودہ کرتی ہیں۔ اس آلودگی کے اثرات غریب آبادیوں کے بچوں کو دمے اور دوسری بیماریوں کی صورت میں بھگتنا پڑتے ہیں۔

ان کی سوچ یہ واضح کرتی ہے کہ صحت کا تحفظ صرف اسپتالوں اور علاج گاہوں تک محدود نہیں۔ صاف پانی، تازہ ہوا اور صنعتی آلودگی سے محفوظ ماحول بھی صحت کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہیں۔ یہی عوام کو مرکزِ نگاہ رکھنے والے نظام کی اصل روح ہے۔

اب جبکہ عبدالسید امریکی سینیٹ میں پہنچ چکے ہیں، ان کا صحت سے متعلق نظریہ واشنگٹن کے طاقتور کاروباری حلقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حامی حلقوں کی سخت مخالفت کے باوجود انہوں نے بڑی کمپنیوں سے انتخابی مالی مدد لینے سے انکار کیا ہے۔ اس فیصلے سے انہیں عوامی مفاد کے لیے بیرونی دباؤ سے آزاد ہوکر کام کرنے کا اخلاقی حوصلہ ملتا ہے۔

وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس مضبوط اور پرانے نظام میں کس حد تک تبدیلی لاسکتے ہیں، تاہم ان کا انسان دوست تصورِ صحت اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں ’منافع سے پہلے انسان‘ کے اصول کو اہمیت دینے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔ آنے والے دور میں یہ فکری رجحان طب اور سیاست دونوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ظفر اقبال سینیئر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ ان کی بنیادی دلچسپی اور تحقیقی کام کے شعبوں میں طبی اخلاقیات، صحت کے نظام کا انتظام، مریضوں کا تحفظ اور علاج کے معیار میں بہتری شامل ہیں۔ وہ معیاری اور اقدار پر مبنی طبی سہولتوں کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp