ہنجلی دوہٹہ کا پل ضلع سیالکوٹ کو ضلع نارووال سے ملاتا تھا لیکن سیلابی ریلے میں پل بہہ جانے کے بعد نہ صرف دونوں اطراف کا زمینی رابطہ شدید متاثر ہوا بلکہ دو قیمتی انسانی جانیں بھی اس حادثے کی نذر ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مالی دباؤ کے باوجود مریم نواز نے سیالکوٹ کے منصوبوں کو مؤخر نہیں کیا، جس پر ان کے شکر گزار ہیں، خواجہ آصف
تاہم المیہ یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود یہ پل مکمل نہیں ہوسکا۔
ایک طرف سیالکوٹ کا بڑا صنعتی و کاروباری مرکز اور دوسری طرف نارووال کے تعلیمی اداروں اور ملازمت پر جانے والے افراد اور ان کے علاوہ وہاں روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں دیگر شہری سب ہی اس متاثرہ راستے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
دونوں اضلاع میں اہم سیاسی قیادت موجود ہے اور وفاقی سطح پر بھی مضبوط نمائندگی ہے لیکن پھر بھی یہ بنیادی عوامی رابطہ بحال ہونے میں اتنی تاخیر افسوسناک امر ہے۔
شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ لاہور سے پورے پنجاب کو نہیں سنبھالا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگر نئے صوبے بن جائیں گے تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر ہی حل ہوجایا کریں گے۔ جانیے عوام کی روداد زبیر احمد کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔










