پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کو پاکستان کا ویزا جاری کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں، جبکہ بھارتی شہریوں کے لیے بھی ویزوں کا اجرا بند نہیں کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق رواں سال 4 ہزار سے زیادہ سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے پاکستان کی ویزا پالیسی، شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس، ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔
ترجمان نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کے دورہ پاکستان سے متعلق سوال پر کہا کہ انہیں ویزا دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور پاکستان نے بھارتی شہریوں کو ویزوں کے اجرا کا عمل بھی معطل نہیں کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھارتی پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ بھگونت مان نے لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تھی۔
بھگونت مان کا کہنا تھا کہ انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور وہ لاہور جانا چاہتے ہیں، کیونکہ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے لوگوں کی جڑیں اور مسائل مشترک ہیں۔
اس موقع پر بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ارکان نے بھی پاکستان آنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ کو حکومت کی جانب سے اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی اپنے ساتھ لاہور لے کر جائیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کی جانب سے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں منعقد ہوگا، تاہم پاکستان کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ ادارہ جاتی مشاورت اور ضروری ضابطہ کار مکمل ہونے کے بعد قیادت کرے گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ممکن بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسے 2 ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا جو گزشتہ 47 سال سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے تھے۔
سجاد حیدر خان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں مستقل امن کا راستہ جنگ سے نہیں بلکہ سیاسی بات چیت اور سفارت کاری سے نکلتا ہے۔ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں اور مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھے گا۔
ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اس دوران انتہائی اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
جوہری حملے کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملے پر قیاس آرائیاں کرنا یا تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔











