امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان میں اپنی برتری مزید مستحکم کرتے ہوئے نشستوں کی تعداد 253 تک پہنچا دی ہے، جبکہ ری پبلکن پارٹی اب تک 157 نشستیں حاصل کرسکی ہے۔ سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے، جبکہ گورنر کے انتخابات میں بھی انہیں ری پبلکنز پر برتری حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر، مڈٹرم انتخابات کے بعد مارکیٹس میں ہلچل
امریکی میڈٰیا کے مطابق جمعے کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 22 منٹ تک 435 رکنی ایوان نمائندگان کی 410 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے تھے، جن میں ڈیموکریٹس نے 253 اور ری پبلکنز نے 157 نشستیں حاصل کیں، جبکہ 25 حلقوں کے نتائج کا اعلان ہونا باقی تھا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 54 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل کرلی ہے، جن میں ان کے ساتھ اتحاد رکھنے والے 2 آزاد سینیٹرز بھی شامل ہیں، جبکہ ری پبلکنز کے پاس 44 نشستیں ہیں۔ سینیٹ کی 2 نشستوں کے نتائج ابھی زیر التوا ہیں۔
گورنر کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے اور انہوں نے اب تک 28 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ ری پبلکنز 20 ریاستوں میں کامیاب ہوئے ہیں۔ الاسکا اور کنساس میں گورنر کے انتخابات کے نتائج ابھی غیر واضح ہیں اور دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
ری پبلکنز کی نشستیں ڈیموکریٹس نے چھین لیں
ایوان نمائندگان کے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے نیو جرسی کے دوسرے انتخابی حلقے میں ری پبلکن امیدوار جیف وان ڈریو کو شکست دے دی۔ ڈیموکریٹ زیک مولوک نے 50.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ری پبلکن امیدوار 48.2 فیصد ووٹ لے سکے۔ اس حلقے میں 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی۔
نیویارک کے 17ویں انتخابی حلقے میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار کیٹ کونلی نے ری پبلکن رکن مائیک لالر کو شکست دے کر نشست حاصل کرلی۔ کیٹ کونلی نے 52.8 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعے کی صبح 2 بج کر 12 منٹ پر اس حلقے میں ان کی کامیابی کا اعلان کیا۔
اوہائیو کے 10ویں انتخابی حلقے میں ڈیموکریٹ کرسٹینا نیکربوکر نے ری پبلکن امیدوار مائیک ٹرنر کو شکست دی۔ انہوں نے 49.3 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف کو 47.7 فیصد ووٹ ملے۔
یہ بھی پڑھیں: مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟
شمالی کیرولائنا کے 9ویں انتخابی حلقے میں ڈیموکریٹ رچرڈ این اوجیدا دوم نے ری پبلکن امیدوار رچرڈ ہڈسن کو شکست دی۔ اس حلقے میں 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک ڈیموکریٹ امیدوار کو 51.1 فیصد ووٹ مل چکے تھے۔
ڈیموکریٹس نے کولوراڈو اور ایریزونا میں بھی ری پبلکنز کی نشستیں حاصل کیں۔ کولوراڈو کے پانچویں انتخابی حلقے میں جیسیکا کلن نے ری پبلکن امیدوار جیف کرینک کو شکست دے کر 50.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
اسی طرح ایریزونا کے چھٹے انتخابی حلقے میں جوانا مینڈوزا نے ری پبلکن امیدوار خوان سسکومینی کو شکست دی۔ 89 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک جوانا مینڈوزا کو 52.8 فیصد ووٹ مل چکے تھے۔
ری پبلکنز کی بھی کئی حلقوں میں کامیابی
دوسری جانب ری پبلکن امیدواروں نے بھی مختلف انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل کی اور کئی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
ٹینیسی کے 9ویں انتخابی حلقے میں ری پبلکن امیدوار برینٹ ٹیلر نے ڈیموکریٹ جسٹن پیئرسن کو شکست دی۔ برینٹ ٹیلر نے 49.6 فیصد جبکہ ان کے حریف نے 48.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس حلقے میں 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی۔
یوٹاہ کے چوتھے انتخابی حلقے میں ری پبلکن مائیک کینیڈی نے ڈیموکریٹ جونی لارسن کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ انہیں 53.2 فیصد ووٹ ملے۔
واشنگٹن کے چوتھے انتخابی حلقے میں ری پبلکن امیدوار امانڈا میک کینی نے ڈیموکریٹ جان ڈوریسکی کو شکست دی اور 54.7 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی سالانہ 4 ارب ڈالر امداد بند کرنے کا اعلان بھی ٹرمپ کو شکست سے بچا نہ سکا
فلوریڈا کے 13ویں انتخابی حلقے میں ری پبلکن رکن اینا پالینا لونا بھی اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹ لیلا گرے کو شکست دی۔ اینا پالینا لونا نے 49.5 فیصد جبکہ ان کی حریف نے 48.7 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے ساتھ ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی پوزیشن مزید واضح ہوگی، جبکہ الاسکا اور کنساس میں گورنر کے انتخابات کے نتائج بھی زیر انتظار ہیں۔











