گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مولانا صاحب کو حکومت میں حصہ نہیں ملا، اسی لیے وہ ناراض ہیں، تاہم ان کے بغیر بھی حکومت قائم ہوئی ہے اور اپنا کام جاری رکھے گی۔
پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران صوبے میں جو کچھ ہوا، موجودہ حکومت اس کی اصلاح کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ مخالفین چاہے جتنی تنقید کریں، حکومت اپنا کام جاری رکھے گی اور کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبے میں بہتر قانون سازی کی جائے گی اور عوام کی بہتری کے لیے قوانین بنائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی 4 سے 5 فرنچائزز ہیں، کس سے مذاکرات کریں؟ گورنر فیصل کریم کنڈی کا سوال
سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال سے متعلق سوال پر انہوں نے وضاحت کی کہ ہیلی کاپٹر گورنر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے سرکاری استعمال کے لیے ہوتے ہیں۔ وہ بھی سرکاری ذمہ داری کے سلسلے میں ہیلی کاپٹر پر گئے تھے، کسی تفریح یا عیاشی کے لیے نہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ماضی میں مبینہ طور پر رقم لے کر تجاوزات کے اجازت نامے جاری کیے جاتے رہے، تاہم اب تجاوزات ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے متاثر ہونے والے افراد کے مسائل کے حل کے لیے فارم تیار کیا جارہا ہے، جب کہ ریڑھی بانوں کو بھی مناسب جگہ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
پولیو ورکرز پر حملوں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس حوالے سے بھی کام کیا جارہا ہے، کیونکہ پولیو کا مسئلہ پورے صوبے اور عوام کو متاثر کررہا ہے۔ اس مرض کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔











