سیالکوٹ بھگدڑ کیس: عدالت نے ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کو بڑا ریلیف دیدیا

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف ٹک ٹاکر محمد انصر محمود عرف ‘مسٹر پتلو’ کو سیالکوٹ میں اپنی مہندی کی تقریب کے دوران مچنے والی بھگدڑ اور جانی نقصان سے متعلق کیس میں عدالتوں سے 10 نومبر تک عارضی ریلیف مل گیا ہے۔

ڈسکہ کی مقامی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج محمد عرفان نسیم تارڑ نے مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو ان کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹک ٹاکر کمر کی تکلیف کی باعث ویل چیئر پر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے بھی قتل بالسبب، غیر قانونی اجتماع اور ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں ان کی 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی تاکہ وہ متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے ’دل کرتا ہے خودکشی کر لوں، یہ میری آخری ویڈیو ہوسکتی ہے‘، مسٹر پتلو کی رو رو کر فیلڈ مارشل اور مریم نواز سے اپیل

یاد رہے کہ سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران رش اور شدید بھگدڑ مچنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس تقریب میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور نقد انعامات کی تقسیم کا اعلان کیا گیا تھا جس کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔

دوسری جانب مسٹر پتلو نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے واقعے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

حادثے کے وقت اسپتال میں موجودگی کا دعویٰ

ٹک ٹاکر کے مطابق تقریب سے ایک روز قبل کرکٹ کھیلتے ہوئے ان کی کمر کی ڈسک متاثر ہوئی تھی جس کے باعث وہ بشیر اسپتال میں ایم آر آئی اور علاج کے لیے زیرِ علاج تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں انہیں اسٹیڈیم میں موجود دکھایا گیا ہے جو حقیقت کے برعکس ہے، لہٰذا اسپتال کے ریکارڈ اور سی سی ٹی وی کیمروں سے تحقیقات کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیے سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی میں بھگدڑ، 14 افراد زخمی، ہلاکتوں کی بھی اطلاعات

ان کا کہنا تھا کہ شادی کی تقریبات 5 سے 7 نومبر کے لیے طے تھیں اور انہوں نے غریب بچیوں کی مدد، راشن اور تحائف کی تقسیم کے لیے انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ بھگدڑ کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے پروگرام منسوخ کر دیا تھا۔

مسٹر پتلو نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد ان کے گھر اور فارم ہاؤس پر بھگدڑ کے باعث سامان بکھر گیا تھا جسے پولیس نے موقع پر پہنچ کر سنبھالا، جبکہ اس تمام صورتحال سے وہ اور ان کے والد شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp