نئی آٹو پالیسی میں 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کے لیے کیا فیصلہ ہوا؟ عطااللہ تارڑ نے بتا دیا

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک جامع آٹو پالیسی تیار کی ہے، جس میں پیٹرول پر چلنے والی 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کو نہیں چھیڑا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بڑی رعایتیں دی گئی ہیں۔ حکومت کا مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنا اور پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل میں کمی لانا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں کئی دہائیوں سے آٹو انڈسٹری کو تحفظ فراہم کرنے والی پالیسیاں نافذ رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود صنعت نے ماضی میں صارفین کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے ذریعے عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے اور گاڑیوں کی صنعت میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جن سے صارفین کو فائدہ پہنچے۔

متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو سہولت دینا وزیراعظم کی ترجیح

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے سہولیات پیدا کی جائیں۔ نئی آٹو پالیسی میں بھی اسی مقصد کو سامنے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی چھوٹ دی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں ان گاڑیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہماری بہنیں بھی الیکٹرک بائیکس پر سفر کرتی ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ عام شہریوں کے لیے جدید اور متبادل سفری سہولیات کو فروغ دیا جائے۔

الیکٹرک گاڑیوں سے درآمدی بل اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی

عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کا تیل کا درآمدی بل روز بروز بڑھ رہا ہے اور حکومت اس بڑھتے ہوئے مالی بوجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے سے پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ فضا میں کاربن کے اخراج میں بھی کمی آئے گی، جس سے ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ وقت کی ضرورت ہے اور حکومت کی نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ درآمدی بل میں کمی لانا بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’این سی سی آئی اے‘ کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں کررہی ہے؟

ایک لاکھ کے ڈیپ فریزر پر 35 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ، کراچی میں دلچسپ مقدمہ سامنے آگیا

حلقہ این اے 77 میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام، الیکشن کمیشن نے عطا اللہ تارڑ کو طلب کر لیا

جنوبی کوریا کو شکست، پاکستان ایشین ٹیم اسکواش چیمپیئن بن گیا، 10 سال بعد گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب

8000 سال قدیم مہر گڑھ تہذیب کو نئی زندگی، امریکی تعاون سے بلوچستان کے تاریخی عجائب گھر کی بحالی مکمل

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟