الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 77 گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب میں وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے، جبکہ معاملے کا حتمی فیصلہ ہونے تک حلقے کا انتخابی نتیجہ روکے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگا، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے7 نومبر 2026 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس میں وفاقی وزیر کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انتخابی حلقے کا دورہ کرنے اور ایک اجتماع میں شرکت کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ اور ریٹرننگ افسران سے رپورٹ طلب
الیکشن کمیشن نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے باضابطہ رپورٹ طلب کر لی ہے، تاکہ ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔
کمیشن کی جانب سے وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور اپنے خلاف سامنے آنے والے معاملے پر اپنا مؤقف پیش کریں۔
انتخابی نتیجہ روکے جانے کا امکان
الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ معاملے کی انکوائری اور حتمی فیصلے تک این اے 77 گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا کے حلقوں کی حد بندی تبدیل نہیں ہوئی، الیکشن کمیشن کی وضاحت
اس پیش رفت کے بعد حلقے کے انتخابی عمل اور نتیجے سے متعلق الیکشن کمیشن کی کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے، تاہم وفاقی وزیر کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام تاحال زیرِ تحقیقات ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق کمیشن نے انتخابی ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔











