حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پرعزم، امریکا کو خط لکھنے کا فیصلہ

بدھ 5 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت پاکستان نے امریکا کی جیل میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے امریکا کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے خط لکھ کر امریکا سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

عافیہ صدیقی کی رہائی کی چابی اسلام آباد کے حکومتی ایوانوں میں ہے: مشتاق احمد

جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی چابی اسلام آباد کے حکومتی ایوانوں میں ہے۔ حکومت پاکستان مدعی بن جائے تو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کوئی مشکل کام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے جو بھی کردار ادا کرے گا اسے ضرور کریڈٹ ملے گا۔ یہ کسی کی بھی فتح یا شکست نہیں ہو گی۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم امریکی صدر کو ٹیلیفون کریں جبکہ وزیر خارجہ بھی اپنے ہم منصب سے رابطہ کر کے اس حوالے سے بات کریں۔

عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی سطح پر کبھی اقدامات نہیں کیے گئے: آمنہ مسعود

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کی رہنما آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کبھی بھی حکومتی سطح پر اقدامات نہیں کیے گئے۔ شاہ محمود نے بحیثیت وزیر خارجہ مجھے جواب دے دیا تھا کہ ہم ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔

حکومت خط لکھنا چاہتی ہے تو ڈرافٹ ہمارے وکیل سے تیار کروایا جائے: فوزیہ صدیقی

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ میں یقین دہائی کرواتی ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ وطن واپسی کی صورت میں کوئی سیاست نہیں کریں گی۔ وہ پہلے ہی ان لوگوں کو معاف کر چکی ہیں جنہوں نے ان کی بہن کو امریکا کے حوالے کیا تھا۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ اگر حکومت نے امریکا کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ اچھا اقدام ہے کہ اس کا ڈرافٹ ہمارے وکیل سے تیار کروایا جائے تاکہ اس میں کوئی قانونی سقم نہ رہ جائے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ میری عافیہ صدیقی کے ساتھ ملاقات 20 سال بعد ہوئی۔ یہ کام کوئی بھی حکومت کروا سکتی تھی مگر نہیں کروایا گیا۔ امید ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپس ممکن ہو جائے گی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے دہشتگردی کے جرم میں 86 برس قید کی سزا سنائی ہے اور وہ بدنامِ زمانہ جیل گوانتاناموبے میں قید ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کے مطابق وہ اپنے 3 بچوں سمیت مارچ 2003 میں کراچی سے لاپتا ہوگئی تھیں۔

بعد ازاں خاتون ڈاکٹر کو سنہ 2010 میں ایک امریکی وفاقی عدالت نے 86 سال قید کی سزا سنائی تھی ان پر الزام یہ عائد ہوا تھا کہ جب وہ افغانستان میں امریکی حراست میں تھیں تب انہوں نے فوجیوں پر فائرنگ کی۔ علاوہ ازیں 6 دیگر الزامات کے تحت بھی انہیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں دریافت ہونے سے قبل وہ 5 سال تک لاپتا رہی تھیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کی پاکستان واپسی کی تحریک چلائی جا رہی

ہے جس کی سربراہی ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ کی سنہ 2003 کے بعد اپنی قیدی بہن سے پہلی ملاقات31 مارچ کو ہوئی تھی۔

 

وی نیوز کی خصوصی رپورٹ میں عافیہ صدیقی پر جیل میں تشدد کا انکشاف

امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے دوران ان کی بہن کے ہمراہ جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان بھی موجود تھے جنہوں نے 13 جون کو وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا تھا کہ جیل میں پاکستان کی بیٹی پر مسلسل تشدد ہو رہا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے سر اور چہرے پر تازہ زخم موجود تھے جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ قید میں ان پر ظلم و جبر تاحال نہیں تھما ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے بتایا تھا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے مشاہدہ کیا کہ عافیہ صدیقی پر بدترین تشدد ہوا ہے کیوں کہ ان کے چہرے پر تشدد اور گہرے زخم کے نشان دکھائی دیے جب کہ اس کے علاوہ سر پر کان کے نزدیک بھی تازہ زخم تھا۔

رہنما جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر عافیہ کے سر پر اسکارف بندھا تھا لیکن کان کے نزدیک تازہ زخم کے نشان نمایاں تھے جس سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون قیدی پر اب بھی تشدد جاری ہے‘۔

 مشتاق احمد نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ملاقات کے دوران انہیں بتایا کہ ان پر کس طرح طلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عافیہ صدیقی نے امریکی جیل حکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’وہ ریپیسٹ ہیں‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ