امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ مردم شماری زبانی کلامی کی گئی ہے، اعداد و شمار پہلے سے طے شدہ تھے، کراچی کی آبادی 2 کروڑ 3 لاکھ بتائی گئی ہے جبکہ 38 ہزار ہائی رائز بلڈنگز اور کئی آبادیوں میں لوگوں کو گنا ہی نہیں گیا۔
کراچی کے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم اور پی ڈی ایم نے کراچی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے، مردم شماری قانونی اصولوں کے مطابق نہیں ہوئی، اسلام آباد کے بیورو آف اسٹیٹکس نے بھی بتایا ہے کہ کئی علاقے، آبادیاں اور ہائی رائز بلڈنگز میں لوگوں کو گنا ہی نہیں گیا۔
مزید پڑھیں
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ مردم شماری تو دور کی بات خانہ شماری بھی نہیں کی گئی، کراچی کے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نےا حتجاج کیا اس پورے عمل میں ایک مہینے کی توسیع کر دی گئی لیکن نتیجہ کیا نکلا صرف 22 لاکھ مزید لوگ شامل کر دیے گئے۔
انکا کہنا تھاکہ مردم شماری کے شروع میں ہے اعتراض سامنے آگیا تھا، مردم شماری قانونی اصولوں کے تحت نہیں کی گئی بس اعداد و شمار پہلے سے طے تھے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ملازمت کے لیے اندرون سندھ ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے آتے ہیں، انکا عارضی پتا کراچی کا ہی ہوتا ہے ان لوگوں کو بھی مردم شماری کے اصولوں کے مطابق یہاں شمار کرنا چاہیے ہے۔




















