نائیجر کی فوجی حکومت کی جانب سے فضائی حدود کی بندش سے افریقہ بھر میں پروازوں کے سفر کے اوقات متاثر ہو رہے ہیں۔ اس تعطل کی وجہ سے لیبیا اور سوڈان سمیت افریقی فضائی حدود کے ایک حصے کو جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کچھ پروازوں کو 1000 کلومیٹر طویل چکر لگانا پڑ رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائیجر کی فوجی حکومت کی جانب سے اتوار کے روز اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد یورپی ایئر لائنز نے پیر کے روز براعظم افریقہ میں پروازوں میں خلل اور پروازیں معطل کرنے کی اطلاع دی تھی۔
فوجی حکومت ملک کے معزول صدر محمد بزوم کو بحال کرنے یا فوجی مداخلت کے خطرے کا سامنا کرنے کی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کرنےکےبعد مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ECOWAS) سے جواب کی توقع کر رہی ہے۔
ٹریکنگ سروس فلائٹ راڈار 24 نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ہے کہ نائیجر کی فضائی حدود کی بندش سے علاقے میں طیاروں کی آمد و رفت شدید متاثر ہو رہی ہیں اور بندش کی وجہ سے یورپ اور جنوبی افریقہ کے درمیان زیادہ تر تجارتی پروازیں پرواز نہیں کر سکتیں۔
فضائی بندش کی وجہ سے ایئر فرانس نے برکینا فاسو کے اوگاڈوگو اور مالی کے باماکو سے آنے اور جانے والی پروازیں 11 اگست تک معطل کر دی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایئر فرانس کو سب صحارا کے مرکز کے ہوائی اڈوں سے پروازوں کا طویل وقت ملنے کی توقع ہے اور پیرس میں چارلس ڈی گال ہوائی اڈے اور گھانا میں اکرا کے درمیان پروازیں نان اسٹاپ آپریٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایکوواس (ECOWAS) کی ڈیڈ لائن ختم
مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ایکوواس) کے دفاعی سربراہوں نے 30 جولائی کو کہا تھا کہ اگر نائیجر کی فوجی حکومت نے ایک ہفتے کے اندر مطالبات پورے نہ کیے اور ملک کو معمول کے آئینی نظام کی طرف بحال نہیں کیا تو وہ مداخلت کرنے پر متفق ہیں۔ تاہم ایک ہفتے کی ڈیڈ لائین ختم ہو چکی ہے۔
گروپ کے وزرائے دفاع نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ نائیجر کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی پر متفق ہیں لیکن ہفتے کے روز صدارتی محافظوں کے سابق سربراہ جنرل عبدالرحمان چھیانی کی سربراہی میں فوجی حکومت نے کلیدی سرکاری عہدوں پر فوج کے افراد کو تعینات کرکے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے تھے۔
چھیانی نے آئین کو معطل اور حکومتی اداروں کو تحلیل کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی خود کو صدر نامزد کردیا تھا۔ فوجی حکومت کی حمایت میں کچھ نوجوان بھی میدان میں آگئے ہیں ہے۔ ہزاروں فوجیوں نے فوجی جرنیلوں کی حمایت میں دارالحکومت نیامی کے ایک اسٹیڈیم میں مظاہرہ کیا تھا۔
چھیانی پہلے صدارتی محافظوں کے سربراہ تھے لیکن انہوں نے اسی شخص کو حراست میں لے کر بغاوت کا علم بلند کر دیا جس کی حفاظت کی ذمہ داری انہیں تفویض کی گئی تھی۔













