نائیجر کی فضائی حدود کی بندش سے ایئر لائن کمپنیوں کو شدید مشکلات کا سامنا

منگل 8 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائیجر کی فوجی حکومت کی جانب سے فضائی حدود کی بندش سے افریقہ بھر میں پروازوں کے سفر کے اوقات متاثر ہو رہے ہیں۔ اس تعطل کی وجہ سے لیبیا اور سوڈان سمیت افریقی فضائی حدود کے ایک حصے کو جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کچھ پروازوں کو 1000 کلومیٹر طویل چکر لگانا پڑ رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائیجر کی فوجی حکومت کی جانب سے اتوار کے روز اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد یورپی ایئر لائنز نے پیر کے روز براعظم افریقہ میں پروازوں میں خلل اور پروازیں معطل کرنے کی اطلاع دی تھی۔

فوجی حکومت ملک کے معزول صدر محمد بزوم کو بحال کرنے یا فوجی مداخلت کے خطرے کا سامنا کرنے کی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کرنےکےبعد مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ECOWAS) سے جواب کی توقع کر رہی ہے۔

ٹریکنگ سروس فلائٹ راڈار 24 نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا ہے کہ نائیجر کی فضائی حدود کی بندش سے علاقے میں طیاروں کی آمد و رفت شدید متاثر ہو رہی ہیں اور بندش کی وجہ سے یورپ اور جنوبی افریقہ کے درمیان زیادہ تر تجارتی پروازیں پرواز نہیں کر سکتیں۔

فضائی بندش کی وجہ سے ایئر فرانس نے برکینا فاسو کے اوگاڈوگو اور مالی کے باماکو سے آنے اور جانے والی پروازیں 11 اگست تک معطل کر دی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایئر فرانس کو سب صحارا کے مرکز کے ہوائی اڈوں سے پروازوں کا طویل وقت ملنے کی توقع ہے اور پیرس میں چارلس ڈی گال ہوائی اڈے اور گھانا میں اکرا کے درمیان پروازیں نان اسٹاپ آپریٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایکوواس (ECOWAS) کی ڈیڈ لائن ختم

مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ایکوواس) کے دفاعی سربراہوں نے 30 جولائی کو کہا تھا کہ اگر نائیجر کی فوجی حکومت نے ایک ہفتے کے اندر مطالبات پورے نہ کیے اور ملک کو معمول کے آئینی نظام کی طرف بحال نہیں کیا تو وہ مداخلت کرنے پر متفق ہیں۔ تاہم ایک ہفتے کی ڈیڈ لائین ختم ہو چکی ہے۔

گروپ کے وزرائے دفاع نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ نائیجر کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی پر متفق ہیں لیکن ہفتے کے روز صدارتی محافظوں کے سابق سربراہ جنرل عبدالرحمان چھیانی کی سربراہی میں فوجی حکومت نے کلیدی سرکاری عہدوں پر فوج کے افراد کو تعینات کرکے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے تھے۔

چھیانی نے آئین کو معطل اور حکومتی اداروں کو تحلیل کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی خود کو صدر نامزد کردیا تھا۔ فوجی حکومت کی حمایت میں کچھ نوجوان بھی میدان میں آگئے ہیں ہے۔ ہزاروں فوجیوں نے فوجی جرنیلوں کی حمایت میں دارالحکومت نیامی کے ایک اسٹیڈیم میں مظاہرہ کیا تھا۔

چھیانی پہلے صدارتی محافظوں کے سربراہ تھے لیکن انہوں نے اسی شخص کو حراست میں لے کر بغاوت کا علم بلند کر دیا جس کی حفاظت کی ذمہ داری انہیں تفویض کی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم