‘ماہرہ خان سے محبت اپنی جگہ لیکن یہ کپڑے مضحکہ خیز حد تک مہنگے ہیں’

جمعرات 16 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا صارفین نے پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کے نئے فیشن برانڈ ’ایم‘ کو مہنگا ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مداحوں نے ٹویٹس کے ذریعے اداکارہ کو بتایا کہ وہ فنکارہ سے محبت رکھتے ہیں لیکن ان کے مہنگے کپڑے نہیں خریدیں گے۔

کچھ روز قبل پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان کی جانب سے ’ایم بائے ماہرہ‘ (M By Mahira) کے نام سے کپروں کا برانڈ لانچ کرنے کے بعد سفید کرتا شلوار کی قیمت پر ٹوئٹر صارفین ناخوش دکھائی دیے۔

’ایم بائے ماہرہ‘ کی ویب سائٹ پر کڑھائی کا کرتا شلوار کی قیمت 12 ہزار 800 روپے اور آئرش لینن مردانہ طرز کے کُرتے کی قیمت 13 ہزار 600 روپے ہے۔
بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ’مہنگے‘ ملبوسات پر ناراضی کا اظہار کیا اور طنزیہ ٹوئٹس کیے۔

سیرت شہزاد نے لکھا کہ ’ایم بائے ماہرہ (M by Mahira) میں ایم (M) کا مطلب مہنگا ہے‘

ایک خاتون نے لکھا ’ماہرہ ایک سادہ سفید کرتا 13 ہزار کا بیچ رہی ہے؟ اور یہ فروخت بھی ہوچکا ہے؟ کیوں؟ کیسے؟ اور کس نے؟
جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ اس طرح کا کرتا درزی سے 500 میں سلوا سکتے ہیں ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ