میٹر اتارنے آئے اہلکار پر شہری نے بندوق تان دی: ’یہ تو پیار سے قانون سمجھانے لگ گئے ہیں‘

منگل 29 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں متواتر اضافے کے باعث عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، گزشتہ چند روز سے ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، شاہراہیں بلاک کیں، بجلی کے بل جلائے، پاور کمپنیوں کے باہر دھرنے دیے اور مبینہ طور پر خود کشی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ شدید مظاہروں کے پیشِ نظر آئیسکو کے دفاتر کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی تھی۔

مظاہرین کی احتجاج اور بل جلانے کی متعدد ویڈیوز بھی سامنے آئیں، شہریوں نے بجلی محکمے کے عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ احتجاج کے بعد عوام تشدد کا راستہ بھی اختیار کرنے لگے ہیں۔

ایسی ہی ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی سائیٹ ’ایکس‘ پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بل جمع نہ کرانے پر واپڈا اہلکار بجلی کنیکشن کاٹنے کے لیے جاتے ہیں تو اسلحہ لیے بیٹھے افراد ان کا راستہ روکتے ہیں، چھت پر بیٹھے بندوق تھامے افراد کو دیکھ کر واپڈا اہلکار کنیکشن کاٹنے کا ارادہ ملتوی کر دیتا ہے اور شہریوں کو قانون پر عملدرآمد کرنے کا کہتا ہے۔

ویڈیو میں موجود شخص کہتا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کرتے ہوئے یہاں آئے ہیں، ہمیں جو کہا جاتا ہے ہم وہی کرتے ہیں، ہم یہاں لڑائی جھگڑا کرنے نہیں آئے ہمیں اس سسٹم کے مطابق رہنا ہے۔

ویڈیو وائرل ہوئی تو صارفین نے اس پر مختلف تبصرے کیے۔ کسی نے کہا کہ ملک تیزی سے خانہ جنگی کی طرف جا رہا تو کوئی پٹھانوں کی بہادری کی تعریف کرتا نظر آیا۔

فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ جب لوگ اپنی طاقت دکھاتے ہیں تو مافیا دم دبا کر بھاگ جاتا ہے،اس لیے عوام اپنی طاقت پہچانیں اور ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

ایک صارف نے لکھا کہ خیبر پختونخواہ کے ہر گاؤں میں جرگے ہونے چاہیئں اور واپڈا اہلکاروں اور پولیس کا دیہات میں داخلہ بند کر دینا چاہیے۔ صارف کا مزید کہنا تھا کہ چور حکمرانوں نے اس ملک کو بیرونی قوتوں کا غلام بنا دیا ہے، اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ غلامی سے بد تر زندگی گزارنی ہے یا غلام حکمرانوں سے پاکستان آزاد کرانا ہے؟

گوہر اسلم لکھتے ہیں بندوق خود ایک قانون ہے جو کسی اور قانون کو نہیں مانتا، اور اب واپڈا کے اہلکار بڑے پیار سے قانون سمجھنے لگ گئے ہیں حالانکہ یہی اہلکار بناء بتائے میٹر اتار کر لے جاتے تھے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ بہت ہی خطرناک اشارہ ہے لیکن سودخوروں کے سہولتکار یہ کیوں نہیں سمجھتے؟

واضح رہے کہ مظاہرین زائد بلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سے یہ اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ اتنے بھاری بلز ادا کرنا ان کے لیے ناممکن ہوچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا