بشریٰ بی بی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا

پیر 4 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ممکنہ گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ۔

درخواست ضمانت میں وفاق، نیب، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت کو جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب، ایف آئی اے، پنجاب پولیس سمیت دیگر اداروں نے ان کے خلاف بے بنیاد اور خلاف قانون مقدمات درج کر رکھے ہیں، جون 2022 سے پہلے کوئی مقدمہ یا انکوائری زیرالتوا نہیں تھی، شوہر کے بعد اب انہیں بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بشریٰ بی بی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جون 2022 سے لیکر ابتک ان کے خلاف درج خفیہ مقدمات، انکوائریز، انوسٹی گیشن کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے تک اداروں کو کسی بھی مقدمہ میں انہیں گرفتار کرنے سے روکا جائے۔

واضح رہے احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 12 ستمبر تک عبوری ضمانت دی ہوئی ہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں نیب اپنی تحقیقات مکمل کر چکا ہے اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری کسی بھی وقت عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘