یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں کے پیش نظر روسی فوج نے اپنے لڑاکا طیاروں کو کار کے ٹائروں سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔
یوکرین نے روس کے جنگی جہازوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ کرتے ہوئے روس کے کئی فوجی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ماسکو کی افواج نے اپنے کچھ جنگی جہازوں پر کار کے ٹائرز رکھ چھوڑے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ روس کی جانب سے یوکرینی ڈرون حملوں سے حفاظت کی ایک عارضی کوشش ہو سکتی ہے۔
میکسار سے حاصل کردہ سیٹلائٹ تصویر میں روس کے اینگلز ایئربیس پر پارک کیے گئے دو Tu-95 اسٹریٹجک بمبار طیارے دکھائے گئے ہیں جن کے ایئر فریم پر کار کے ٹائر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف یوکرینی ڈرونز کے خلاف تحفظ کی کوشش بلکہ خاص طور پر رات کے وقت طیاروں کو چھپانے کا عارضی بندوبست ہو سکتا ہے۔
ڈرون بنانے والی کمپنی ون وے ایرو اسپیس کے فرانسسکو سیرا مارٹو کے مطابق روس کے اس اقدام سے ایئر فیلڈ ایپرن پر رکھے گئے اسٹریٹجک ایوی ایشن طیاروں کی انفراریڈ ریز کے ذریعے نشاندہی میں کچھ مشکل تو درپیش ہوسکتی ہے لیکن وہ پھر بھی انفراریڈ کیمروں کے لیے قابل مشاہدہ ہوں گے۔

’ہمیں یقین ہے کہ اس کا مقصد ڈرون سے محفوظ رہنا ہے، ہم نہیں جانتے کہ اس کا کوئی اثر پڑے گا۔‘
واضح رہے کہ یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں ڈرونز حملوں سے روس کے تزویراتی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، گزشتہ ہفتے ماسکو سمیت 6 روسی علاقے یوکرین کے ڈرون حملے کی زد میں آئے جو کہ روس کے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے روس پر یوکرین کا سب سے بڑا ڈرون حملہ تھا۔
یوکرین کے ڈرون حملے سے ایسٹونیا کی سرحد کے قریب روس کے شہر پسکوف میں مبینہ طور پر متعدد طیاروں کو نقصان پہنچا تھا۔
اگست کے شروع میں یوکرین کے دفاعی حکام نے ان روسی ہوائی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعوٰی کیا تھا جہاں سپرسونک بمبار طیارے موجود تھے۔
روسی افواج نے اس سے قبل یوکرین کے حملوں سے آلاتِ حرب اور دیگر سازوسامان کی حفاظت کے لیے غیر معمولی حربے اختیار کیے ہیں۔
روس نے کمزور ٹینکوں کو دھاتی پنجروں سے ڈھانپنا شروع کیا ہے تاکہ جدید اینٹی ٹینک ہتھیاروں کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور باالفاظ دیگر یوکرین کی گولہ باری سے بچا جا سکے۔













