سزا کے متمنی ملزم نے جج کو جوتا دے مارا

بدھ 20 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چلتے پھرتے اکثر لوگ اپنے تجربے کی بنیاد پر ’تھانے، کچہری اور اسپتال‘ سے بچنے کی دعا کرتے رہتے ہیں کیونکہ جو زندگی میں کسی بھی وجہ سے اگر آپ عدالتی چکر میں پھنس جائیں تو کئی برس مقدمہ بازی کی نذر ہوجاتے ہیں اور معاملہ سلجھنا تو دور کی بات ختم ہوتا بھی نظر نہیں آتا۔

کراچی کی سٹی کورٹ کم و بیش 180 مختلف عدالتوں پر مشتمل ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ روزانہ کی بنیاد پر پیش ہوتے ہیں، جہاں عملے سمیت جج صاحبان اور وکلاء سب کا ہدف یہی ہوتا ہے کہ سماعت اور پیشی نمٹا کر نکلا جائے۔

دوسری جانب جیل میں غیر قانونی طور پر رائج ’پیسہ پھینک، تماشہ دیکھ‘ نظام کے اثرات عدالتوں میں بھی بہت نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی گرفتار ملزم بے بس ہو جائے تو کیا کرے؟

گزشتہ روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحفیظ لاشاری کی عدالت میں منشیات رکھنے کے مقدمہ میں نامزد ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ملزم کو منشیات رکھنے کے کیس میں سزا سنائی جانی تھی، ملزم کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے پہلے جج کی طرف جوتا اچھالا اور اس کے بعد اطمینان سے کہا کہ اب سزا سنائیں۔

ملزم کی جانب سے جوتا اچھالنے کی اس حرکت پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزم تسلیم کو 6 ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے؟’

یوٹیوبر ڈکی بھائی کیس: این سی سی آئی اے کے افسروں سے کتنے کروڑ روپے ریکور ہوچکے ہیں؟

ونڈر بوائے کیوں؟

محسن نقوی سے اماراتی وفد کی ملاقات، دونوں ممالک میں پری امیگریشن کلیئرنس معاہدے پر اتفاق

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘