پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے افغان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ سے کابل میں ملاقات کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس ( سابق ٹوئٹر) پرافغان نائب ترجمان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز وزارت خارجہ حافظ ضیا کی جانب سے جاری ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف خان درانی نے جمعرات کو کابل کا دورہ کیا اور طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ سے بات چیت کی۔
مزید پڑھیں
آصف درانی نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ غیر اعلانیہ دورے پر کابل میں قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی سے ملاقات کی۔
واضح رہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی )کی جانب سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں پاک فوج نے کہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان نے خیبر پختونخوا کے علاقے چترال میں چیک پوسٹوں پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی۔
د اصف دراني په مشرۍ پاکستاني هیئت د بهرنیو چارو له سرپرست وزیرسره وکتل
د بهرنیو چارو، وزیر ښاغلي مولوي امیرخان متقي د افغانستان لپاره د پاکستان ځانګړي استازي ښاغلي آصف دراني په مشرۍ له یوه هیئت سره په کتنه کې په امنیتي مسایلو سربیره په پاکستان کې د افغان مهاجرو د نیونې، … pic.twitter.com/LYsm0mLZGi— Hafiz Zia Ahmad (@HafizZiaAhmad) September 21, 2023
افواج پاکستان کے مطابق 6 ستمبر کو ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد نے 2 سرحدی چوکیوں پر بھی حملہ کیا تھا جس میں 4 سیکیورٹی جوان شہید ہوگئے تھے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ٹی ٹی پی کے 12 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے وفد کابل بھیجا ہے۔ادھر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں افغان نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے مزید کہا کہ جمعرات کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مشترکہ کمیٹیاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی کے مسائل حل کریں گی جبکہ سیکیورٹی اور سیاسی مسائل کے باعث بڑے تجارتی راستوں کو بند نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خصوصی ایلچی اور افغان وزیر خارجہ نے مسائل کے حل اور مستقبل میں ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
افغان ترجمان نے مزید کہا کہ ہمسایہ اور مسلم ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے خلاف ایسے بیانات جاری کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے دونوں فریقوں کے درمیان خلیج پیدا ہو۔
انہوں نے افغان وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا کہ ان کی حکومت کسی کو بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی، امارت اسلامیہ کی پالیسی خیر سگالی اور خلوص پر مبنی ہے۔
دریں اثنا افغان ترجمان کے مطابق آصف درانی نے سیکیورٹی مسائل کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسافروں کی سرحد پار آمد و رفت، دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کا حل تلاش کرے گا۔
آصف درانی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کئی شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے افغان فریق کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد افغان طالب علموں کے لیے اسکالرشپ دوبارہ شروع کرے گا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندہ وفود کی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے سیکیورٹی مسائل اور پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی گرفتاریوں، چمن اسپن بولدک بارڈر پر افغانیوں کے مسائل اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر تبادلہ خیال کیا۔
ادھر پاکستان کی جانب سے آصف درانی کے دورے کے حوالے سے اس وقت تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔




















