انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب میں ہونے والےایک حیران کن واقعہ نے خبروں کی دنیا میں عجب اُدھم مچا دیا۔ انڈیا، جہاں پر ابھی تک ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت نہیں ملی، اس سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ دنوں بھارتی پنجاب کے شہر بٹھنڈہ میں 2 ہم جنس پرست نوجوان عورتوں نے شادی رچا لی۔
اہم بات یہ ہے کہ شادی کی تقریب میں نہ صرف دونوں خواتین کے خاندانوں کے قریباً 70 افراد شریک ہوئے بلکہ شادی کی تقریب بھٹنڈہ کے ایک گردوارے میں منعقد ہوئی، جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ ہم جنس پرست کسی عبادت گاہ کو استعمال کرسکیں گے۔
اب 27 سالہ ڈمپل اور 21 سالہ منیشا کی اس شادی کے خلاف ملک بھر میں سکھ مذہب کے پیروکاروں کی طرف سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس عمل میں گردوارے کا استعمال کرکے ان کے مذہب کی توہین کی گئی ہے۔
بھارت میں سکھ مذہب کے سب سے بڑے گیانی (پیشوا) رگھبیر سنگھ نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ کام سکھ مذہب کے اخلاقی اصولوں کے مکمل طور پر خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرو گرنتھ صاحب(سکھوں کی مذہبی کتاب) کی موجودگی میں ایسا کام ہونا ناقابل برداشت عمل ہے۔ انہوں نے ہردیو سنگھ ( بھٹنڈہ گردوارے کے گیانی) کو عہدے سے ہٹانے کا بھی حکم دیا۔ یاد رہے کہ دونوں ہم جنس پرست خواتین کی شادی کی رسومات کو انہوں نے ہی پورا کروایا تھا۔
دوسری طرف ہردیو سنگھ نے اپنے دفاع میں کہا کہ وہ یہ نہیں جان سکے تھے کہ دولہا اوردلہن دراصل دونوں خواتین ہیں۔ان میں سے ایک نے پگڑی پہن رکھی تھی، اور بالکل مرد جیسا حلیہ بنا رکھا تھا، یہی وجہ ہے کہ انہیں اس کی اصل جنس کا پتہ نہیں چل سکا۔ تاہم ڈمپل، جنہوں نے مرد کا روپ اختیار کیا ہوا تھا، کا کہنا ہے کہ شادی کی رسم سے پہلے انہوں نے اور منیشا نے اپنی مکمل شناخت ظاہر کی تھی کہ کوئی غلط فہمی نہ رہے۔
ڈمپل کا تعلق مانسا ضلع سے ہے جبکہ منیشا کا تعلق بٹھنڈہ سے ہے- دونوں ہی دور دراز کے علاقے ہیں جہاں عوام میں LGBTQ+ کے حقوق پر شاذ و نادر ہی بات ہوتی ہے۔ ڈمپل، ایک اونچی ذات کی جاٹ سکھ جبکہ منیشا، ایک دلت ہندو خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
دونوں کی ملاقات بھارتی پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ کے قریب ایک قصبے، زیرک پور میں کپڑے کی ایک فیکٹری میں ہوئی، جہاں وہ دونوں کام کرتی تھیں۔
ڈمپل نے چند سال قبل اپنی جنس تبدیل کرانے کے لیے بھی گھر والوں سے بات کی لیکن وہ نہیں مانے کیوکہ انہیں اپنی بیٹی کی صحت کی فکر تھی۔ اور اس رشتے کے لیے بھی ان کی والدہ ماننے کو تیار نہیں تھیں لیکن پھر ڈمپل نے انہیں منانے کے لیے کافی زور لگایا کہ اس میں ان کی خوشی ہے، اسی وجہ سے ان کے گھر والے راضی ہوئے، اور شادی میں بھی خوشی خوشی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 2018 میں ہم جنسوں کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں شادی کی اجازت مانگنے والے متعدد ہم جنس پرستوں کی درخواستوں کی سماعت کی، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سے متعلق جلد ہی فیصلہ آنے والا ہے۔
دوسری طرف سکھ مذہب کی اعلیٰ مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا مذہبی ضابطوں کی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔












