لاہور کی سڑک جو گرد و غبار سے مکمل پاک ہوگی

جمعرات 28 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کی مرکزی شاہراہ قائد اعظم (مال روڈ) کو ڈسٹ فری ماڈل روڈ بنایا جائے گا، نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی نے منصوبے کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ محسن نقوی کی زیر صدارت وزیر اعلی ہاؤس میں اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری وزیراعلیٰ، ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی پی ایچ اے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مال روڈ کے اطراف اور گرین بیلٹ میں معیاری گھاس لگائی جائے گی، درختوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، شہر میں بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے نئے واٹر ٹینکس بنائے جائیں گے۔

یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تاجروں کی مشاورت سے مال روڈ پر یکساں اور خوبصورت سائن بورڈ لگائے جائیں گے، مال روڈ سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا اور گاڑیوں کی پارکنگ کے نظام کو بہترین بنایا جائے گا۔

مال روڈ پر صفائی کے انتظامات دنیا کے بہترین شہروں کے معیار کے مطابق ہوں گے، وزیراعلیٰ محسن نقوی نے مال روڈ گرد و غبار سے محفوظ ماڈل روڈ بنانے کے حوالے سے متعلقہ محکمے سے حتمی پلان طلب کر لیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘