اندھی جھیل، جس میں پانی کہاں سے آتا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں

منگل 3 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قدرتی حسن سے مالا مال بلتستان وہ علاقہ ہے جس کا چپہ چپہ سیاحوں کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے۔ یہاں کے سر سبز باغات، بلند و بالا پہاڑ، آبشاریں اور جھیلیں اس جگہ کو منفرد بناتی ہیں۔ ہر سال ان قدرتی مقامات کا نظارہ کرنے لاکھوں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں ۔

یہاں کا ایک سیاحتی مقام ایسا بھی ہے جو سیاحوں کی دلچسپی کا خصوصی سامان رکھتا ہے۔ جی ہاں! بات ہور ہی ہے ضلع شگر میں موجود اندھی جھیل کی جوسکردو انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے تقریباً 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

اندھی جھیل کا نام کیسے پڑا؟

مقامی لوک کہانیوں کے مطابق یہ جھیل ایک چرواہے نے سولہویں صدی میں دریافت کی جب وہ اپنی بکریوں کے ہمراہ یہاں آ نکلا۔ بعد میں یہ جھیل شاہراہ ریشم پر سفر کرنے والے مسافروں کا پڑاؤ بنی کیونکہ یہاں پینے کو تازہ پانی اور کھانے کو مچھلی  وافر مقدار میں دستیاب تھی۔

دریافت کے بعد مقامی لوگوں نے بھی اس جھیل کا رخ کرنا شروع کیا اور فطری تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر سراغ لگانے کی کوشش کی کہ اس جھیل میں موجود پانی آخر کہاں سے آ رہا ہے۔ تاہم وہ پانی کا مآخذ تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جھیل کو ’جربہ ژھو‘ کا نام دیا یعنی اندھی جھیل۔

سیاحوں کے لیے سہولیات

شگر کی اندھی جھیل سطح سمندر سے 13450 فٹ پر واقع ہے۔ یہ جھیل تقریباً 4 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے جبکہ اس کی گہرائی 100 فٹ کے قریب ہے۔ اس جھیل کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ اس کے ایک طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب صحرا جبکہ ایک طرف سے دریا بھی بہہ رہا ہے۔

جھیل کا پانی نیم گرم ہوتا ہے جس میں سیاح و مقامی لوگ نہاتے ہیں۔ سیاحوں کے لیے یہاں کشتی رانی کی سہولیات بھی موجود ہیں۔ اس جھیل میں بہترین کوالٹی کی ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش بھی ہوتی ہے۔ سیاح خود بھی مچھلی کا شکار کرسکتے ہیں جبکہ  بار بی کیو کی سہولت بھی موجود ہے۔

فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ جھیل بہت پرکشش ہے۔ چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ، صاف و شفاف پانی، اور قدرتی نظاروں سے بھرپور یہ جگہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے لائق ہے۔

سردیوں میں جھیل پر سکینگ کی جاتی ہے

سیاحوں کے لیے اس جھیل پر آنے کا بہترین وقت جولائی، اگست اور ستمبر ہے۔ اکتوبر سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دسمبر میں یہ جھیل مکمل طور پر جم جاتی ہے۔

سرمائی سیاحت کے شوقین حضرات جمی ہوئی جھیل بھی دیکھنے آتے ہیں اور اس جھیل پر سکینگ کا لطف اٹھاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!