بجلی اور گیس سے چلنے والے جاپانی ہیٹر میں خاص کیا ہے؟

پیر 16 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسم گرما کے اختتام کے بعد اب موسم سرما کی آمد آمد ہے۔ گیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے باعث سردیوں میں گھر کو گرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں اکثر لوگ بجلی کے ہیٹر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافوں کے بعد اب متوسط طبقہ تو دور کی بات، اپر مڈل کلاس کے لوگ بھی بجلی کے بھاری بھرکم بل ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ وہ بجلی خرچ کریں یا نہ کریں، بہرحال ان کی تنخواہوں کا بڑا حصہ بلوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔

لیکن ذرا ٹھہریے! پشاور کے کارخانو مارکیٹ میں اس پریشانی کا حل موجود ہے۔ جہاں مارکیٹ میں ایسے جاپانی ہیٹرز دستیاب ہیں جو گیس اور بجلی دونوں سے چلتے ہیں۔ جبکہ ان کا خرچہ بھی انتہائی کم ہے۔ ان جاپانی ہیٹرز کو ’کینٹرز مال‘ بھی کہا جاتا ہے۔

دکانداروں کے مطابق اس کے لیے صرف 15 واٹ بجلی درکار ہوتی ہے جس سے یہ بہت ہی کم گیس میں بھی چلتے ہیں اور کم وقت میں کمرے کو گرم کر دیتے ہیں۔

دکانداروں کا موقف ہے کہ گیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر مسئلے کے بعد ان ہیٹرز کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔ ان ہیٹرز کے بارے میں مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی