پاکستان نے ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ کرلیا

بدھ 18 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے آج ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا ہے، میزائل سسٹم کی آزمائشی پرواز کا مقصد مختلف ڈیزائن، تکنیکی پیرامیٹرز اور ہتھیاروں کے نظام کے مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس میزائل سسٹم کا مقصد کسی بھی ممکنہ جارحیت کی روک تھام کو مضبوط بنانا اور اس کی مکمل طور پر فعالیت کے ذریعے خطے میں تذویراتی استحکام کو مزید تقویت فراہم کرنا ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا  اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن اور اسٹریٹجک فورسز کمانڈ کے سینئر افسروں سمیت تذویراتی تنظیموں کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے ابابیل ویپن سسٹم کی اس آزمائشی پرواز کا مشاہدہ کیا۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کامیاب ٹیسٹ میں تعاون پر متعلقہ تمام لوگوں کی تکنیکی صلاحیت، لگن اور عزم کو سراہا۔

نے ان تمام لوگوں کی تکنیکی صلاحیت، لگن اور عزم کو سراہا جنہوں نے کامیاب ٹیسٹ میں تعاون کیا۔ صدر، وزیراعظم پاکستان اور سروسز چیفس نے بھی اس کامیابی پر اسٹریٹجک فورسز کے تمام ارکان کو مبارکباد دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟