تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں، سینیٹر علی ظفر

بدھ 18 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلے کے انتخابی نشان کے حوالے سے 30اگست 2023کے زبانی فیصلے کے بعد تحریری فیصلے کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر پر پاکستان تحریک انصاف نے 30اگست کے فیصلے کے تفصیلی تحریری فیصلے کے حصول کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریری درخواست جمع کرائی ہے۔

سینئر مرکزی رہنما اور تحریک انصاف کے سینیٹرعلی ظفر کی جانب سے جمع کروائی گئی اس تحریری درخواست میں الیکشن کمیشن سے انتخابی نشان کے اجراء کے حوالے سے 30اگست 2023کے اعلان کی روشنی میں تفصیلی فیصلے کے بلاتاخیر اجراء کا مطالبہ کیا ہے۔

درخواست  کے مطابق الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کو بنیاد بناتے ہوئے تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان کے اجراء سے انکار کا نوٹس جاری کیا، انٹرا پارٹی الیکشنز کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کا نوٹس ایک سنگین غلطی تھی۔

’تحریک انصاف نے اپنے آئین کے مطابق 9جون 2022کو انٹرا پارٹی الیکشنز کروائے، انٹرا پارٹی الیکشنز کے انعقاد کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔‘

سینیٹر علی ظفر کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشنز پر کبھی کوئی اعتراض اٹھایا نہ اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی، الیکشن کمیشن نے جمع شدہ دستاویز میں چند نقائص کی نشاندہی کی جنہیں دور کردیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے 30اگست 2023کے فیصلے میں تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشنز کے انعقاد کو تسلیم کرتے ہوئے بلے کے انتخابی نشان کے اجراء کے فیصلے کا اعلان کیا، 30 اگست کے فیصلے کے بعد معاملہ قطعیت اور کاملیت اختیار کر چکا ہے۔

’الیکشن کمیشن نے 30اگست کے فیصلے کے زبانی اعلان کے وقت اس حوالے سے محض تفصیلی فیصلہ جاری کرنے کا اعلان کیا، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 30اگست کے فیصلے کی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر ہوئی۔‘

سینیٹر علی ظفر نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ 41روز گزر جانے کے باوجود تفصیلی فیصلہ جاری نہ کرنا انتخابات کے منصفانہ اور شفاف انعقاد کے تصور کے خلاف ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تفصیلی فیصلے کے اجراء میں تاخیر 30اگست کے زبانی جاری کئے گئے فیصلے میں ردوبدل کی غیر ضروری افواہوں کا سبب بن رہی ہے۔

’پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جو آئندہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ دستور کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان آزادانہ، منصفانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کا پابندہے جبکہ تفصیلی فیصلے کے اجرا سے گریز اس آئینی مینڈیٹ سے انحراف ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا