بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے اعلان کیا ہے کہ چٹاگانگ کے علاقے جنگل سلیم پور کو عسکریت پسندوں، جرائم پیشہ گروہوں اور قبضہ مافیا کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے ریاستی عملداری مکمل طور پر بحال کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جرائم کے خاتمے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر داخلہ نے یہ بات ہفتے کے روز ضلع چٹاگانگ کی سیتاکنڈا اپازیلا میں واقع جنگل سلیم پور کے دورے اور موقع پر صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر اعلیٰ سرکاری حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور مقامی انتظامیہ کے نمائندے بھی موجود تھے۔
صلاح الدین احمد نے کہا کہ جنگل سلیم پور گزشتہ کئی برسوں سے جرائم اور غیرقانونی سرگرمیوں کی علامت بن چکا تھا۔ ان کے بقول گزشتہ 17 سال کے دوران بعض عناصر نے یہاں ایک ایسی متوازی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کی جو عملی طور پر “ریاست کے اندر ریاست” کے مترادف تھی۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: چٹگرام پہاڑی علاقوں میں ’ریاست کے اندر ریاست‘ کا خاتمہ کر دیا گیا، وزیر داخلہ کا دعویٰ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ جمہوری حکومت کے قیام کے بعد چٹاگانگ میں مسلح جرائم کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں تاجروں کے گھروں پر جدید ہتھیاروں سے حملے اور بھتہ خوری کی وارداتیں شامل تھیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق ان سرگرمیوں کے سدباب کے لیے 9 مارچ کو سیکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا، جس کا مقصد علاقے میں سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران مسلح گروہوں کی جانب سے قائم کیے گئے نگرانی کے کیمروں اور چوکسی کے غیررسمی نظام کو ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے ذریعے علاقے پر متوازی کنٹرول قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ معلومات کے افشا ہونے کے باعث سیکیورٹی ادارے اپنے تمام اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکے۔
صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے زیر تعمیر کیمپ کو بلڈوزر کے ذریعے کس طرح مسمار کیا گیا۔ انہوں نے اس واقعے کو ریاستی اختیار کے لیے براہِ راست چیلنج قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذمہ دار عناصر اور قبضہ مافیا کے سرغنوں کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے۔
مقامی آبادی کو یقین دہانی کراتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کا فوری طور پر علاقے کے مکینوں کو بے دخل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق مختلف حالات کے باعث یہاں آباد ہونے والے حقیقی رہائشیوں کو مستقبل کے بحالی پروگرام میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جبری بے دخلی سے متعلق افواہوں پر کان نہ دھریں اور حکومتی پالیسی پر اعتماد رکھیں۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت سلیم پور یونین کو سیتاکنڈا، بھاٹیاری ہاتھا زاری لنک روڈ اور چٹاگانگکوکس بازار شاہراہ سے منسلک کرنے کے لیے ایک بڑے رابطہ سڑک منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرون تصاویر اور انفراسٹرکچر منصوبوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB)، ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مستقل تنصیبات قائم کی جا سکیں۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو یہ ہدایت بھی دی کہ چٹاگانگ سینٹرل جیل کی منتقلی کے طویل عرصے سے زیر التوا منصوبے پر کام تیز کیا جائے تاکہ اسے بایزید لنک کے قریب سرکاری اراضی پر منتقل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کی واپسی کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان
صلاح الدین احمد نے واضح کیا کہ سیکیورٹی کارروائیاں صرف جنگل سلیم پور تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ بیٹوا اور قریبی چائے کے باغات سمیت دیگر جرائم زدہ علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے آپریشن کیے جائیں گے تاکہ جرائم کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ نے صحافیوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے اور ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔













