اسرائیل غزہ جنگ بندی کا مطالبہ: امریکی یہودیوں نے نیویارک کے مجسمہ آزادی پر قبضہ کرلیا

بدھ 8 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق سینکڑوں سرگرم امریکی یہودیوں نے نیویارک کے مجسمہ آزادی پر قبضہ کر لیا ہے۔ پرامن مظاہرین نے غزہ کے باشندوں کے خلاف اسرائیلی بمباری اور نسل کشی کے خاتمے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

’جیوش وائس فار پیس‘ کے مظاہرین نے کالی ٹی شرٹ پہن رکھی تھیں۔ مظاہرین نے ’یہودی جنگ بندی کے خواہاں ہیں‘۔ ’جنگ ہمارے نام پر نہیں‘۔ ’پوری دنیا دیکھ رہی ہے‘ اور ’فلسطینیوں کو آزاد ہونا چاہیے‘ کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔

خبررساں ادارے الجزیرہ کے مطابق سینکڑوں امریکی یہودی کارکنوں نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نہتے شہریوں کی ’نسل کشی‘ بند کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے نیویارک کے مجسمہ آزادی پر پرامن قبضہ کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ دو دن قبل ہزاروں امریکی مظاہرین نے واشنگٹن ڈی سی میں جمع ہوکر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور صہیونی حکومت کے لیے امریکی حمایت کی پالیسی کی شدید مذمت کی۔ اکتوبر کے آخر میں بھی ہزاروں افراد نے مین ہٹن کے گرینڈ سینٹرل اسٹیشن پر مذکورہ مطالبات کے لیے احتجاج کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا