’ہمیں صرف تورات پڑھنے دی جائے‘ اسرائیل کے کٹر یہودی فوج میں شامل ہونے سے انکاری

بدھ 28 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فوج میں جبری بھرتی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے الٹرا آرتھوڈوکس (قدامت پسند) یہودیوں کو صیہونی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، پیر کو جنوبی یروشلم میں روایتی کالے لباس میں ملبوس کٹر یہودیوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے قریب مظاہرہ کیا اور ایک سڑک بند کر دی۔

پولیس نے احتجاج میں شریک مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔

احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا، ’اسرائیل کی حکومت ہمیں اسرائیلی آرمی میں شمولیت کے لیے مجبور کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ہم اپنے مذہبی عقیدے پر قائم رہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’اس صورتحال میں ہم آرمی میں جانے کے بجائے مرنا پسند کریں گے۔‘

واضح رہے کہ اسرائیل میں 18 برس کے بعد تمام مرد اور خواتین کو ایک مخصوص وقت کے لیے فوج کے لیے خدمات سر انجام دینا ہوتی ہیں۔ مردوں کے لیے یہ مدت 2 برس 8 ماہ جبکہ خواتین کے لیے 2 برس ہے۔

کٹر یہودیوں کو پہلے لازمی فوجی سروس سے استثنا حاصل تھا جس کی مدت اگلے ماہ ختم ہو جائے گی۔  تاہم غزہ جنگ میں طوالت کے پیش نظر اسرائیلی فوج نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ  کٹر یہودیوں کے لیے بھی فوج میں سروس کو یقینی بنایا جائے۔

ماضی میں لبرل اور سیکولر حلقوں کی طرف سے بھی زور دیا جاتا رہا ہے کہ ملک کی مڈل کلاس پر دباؤ کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ الٹرا آرتھوڈکس نوجوانوں کے لیے بھی فوجی سروس لازمی قرار دی جائے۔

اسرائیل کی کل 93 لاکھ کی مجموعی آبادی کا 10 فیصد الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سے بیشتر افراد کوئی کام نہیں کرتے اور اپنی مذہبی تعلیم اور اپنے کنبوں کی کفالت کے لیے سرکاری مراعات پر انحصار کرتے ہیں۔

قدامت پسند یہودیوں کا ماننا ہے کہ ان کی کمیونٹی کے لیے فوجی سروس کو لازمی بنانے سے ان کی معمول کی زندگی متاثر ہو جائے گی۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں اپنا زیادہ تر وقت تورات پڑھتے ہوئے گزارنا چاہیے اور اگر نوجوان فوج میں چلے گئے تو وہ اپنی مذہبی روایات اور ذمہ داریوں کی جانب کبھی پلٹ کر نہیں دیکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟