عمران خان نے سائفر کیس میں فرد جرم کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

بدھ 8 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم عمران خاننے سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے۔

وکیل حامد خان کے ذریعے دائر درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف تھا، انہوں نے عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، اسلام آباد میں مجرمانہ مشینری کے ذریعے درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، جن میں دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات شامل ہیں۔

عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔

’ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی، کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا، اسپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔ ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انگلش کپتان ہیری کین فٹ بال کے بہترین کھلاڑی قرار، بیلن ڈی اور اپنے نام کرلیا

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں