ملک بھر کے کون سے 54 فیصد پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دے دیے گئے ہیں؟

بدھ 6 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً 60 دنوں کا وقت رہ گیا ہے اور الیکشن کمیشن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، وزارت خزانہ نے الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے مزید 17 ارب روپے کے فنڈز بھی جاری کر دیے ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر کے 17 ہزار 411 (19فیصد) پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 32 ہزار 508 (35فیصد) کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں انتخابی عمل کو پرامن رکھنے کے لیے وزارت داخلہ سے مزید 2 لاکھ سے زائد سیکیورٹی اہلکار طلب کر لیے ہیں۔ سب سے زیادہ صوبہ بلوچستان کے 40 فیصد سے زائد پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے روز ماحول خوشگوار رکھنے کے لیے ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز کو 3 حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ کل 91 ہزار 809 پولنگ اسٹیشنز میں سے 41 ہزار 890 پولنگ اسٹیشن کو نارمل قرار دیا گیا ہے، جس میں سیکیورٹی کو بھی برابر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ 32 ہزار 508 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے ان پولنگ اسٹیشن میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے ایف سی اور رینجرز تعینات کیے جائیں گے جبکہ 17 ہزار 411 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 51 ہزار 821 پولنگ اسٹیشنز ہیں جس میں سے 29 ہزار نارمل 15 ہزار 829 جبکہ 6 ہزار 599 (12.7 فیصد) پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ سندھ میں پولنگ اسٹیشنز کی مجبوری تعداد 19 ہزار 236 ہے جن میں سے 6 ہزار سے زائد کو نارمل 8 ہزار کو حساس جبکہ 4 ہزاد 430 (23 فیصد) کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

صوبہ بلوچستان میں کل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 5 ہزار 15 ہے جس میں سے صرف 909 پولنگ اسٹیشنز کو نارمل قرار دیا گیا ہے 2 ہزار کو حساس جبکہ 2 ہزار 38 (40 فیصد) کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 15 ہزار 377 ہے جن میں سے 4 ہزار کو نارمل، 6500 کو حساس جبکہ 4 ہزار 344 (27.6 فیصد) پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق چاروں صوبوں کے آئی جیز کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت انتخابی عمل کے پرامن انعقاد کے لیے دستیاب نفری 3 لاکھ 28 ہزار510 ہے جب کہ مطلوبہ تعداد پوری کرنے کے لیے مزید 2 لاکھ 77 ہزار 558 سکیورٹی اہلکار درکار ہوں گے۔

ملک بھر میں 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں تقریبا تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر افواج پاکستان کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ اس دفعہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نارمل پولنگ اور حساس پولنگ اسٹیشنز میں ایف سی اور رینجرز اہلکار فرائض سر انجام دیں گے جبکہ انتہائی حساس پولنگ سٹیشن کے اندر پاک فوج کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو سکے۔ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت الیکشن میں سیکیورٹی ڈیوٹی کے لیے آرمی کی تعیناتی کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں