حکومت سازی کے مراحل، وزیراعظم حلف کب اٹھائے گا؟

بدھ 14 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انتخابات سے قبل متعدد جماعتوں کے سربراہان دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ 8 فروری کو انتخابات جیت کر وزیراعظم کا حلف لیں گے۔ بلاول بھٹو اور نواز شریف وزیراعظم کے منصب کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جارہے تھے تاہم انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 93 آزاد امیدواروں کی کامیابی کے بعد اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف وزیراعظم بننے کے خواں نہیں اور ان حالات میں پیپلزپارٹی بھی بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کے حق میں نہیں۔

عام انتخابات کو 5 روز گزر گئے تاہم فی الحال یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ وزیراعظم کون ہو گا اور اپنے عہدے کا حلف کب اٹھائے گا۔

قومی اسمبلی میں جس بھی رکن اسمبلی کو 169 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی وہ 5 سال کی مدت کے لیے وزیراعظم پاکستان بن جائے گا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کسی ایک بھی وزیراعظم نے اپنی 5 سالہ مدت پوری نہیں کی۔

وی نیوز نے عام انتخابات کے بعد صدر اور وزیراعظم کے انتخاب کے طریقہ کار کو قبل از وقت سامنے لانے کی سعی کی ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ الیکشن کے بعد حکومت بننے تک کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

سینیئر صحافی حافظ طاہر خلیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عام انتخابات کے انعقاد کے بعد 3 روز میں نتائج کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اب موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے ارکان کو ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد کے خطوط بھیجے جائیں گے اور آئین کے مطابق انتخابات کے بعد 2 ہفتے کے اندر موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی صدر اور نگراں وزیراعظم سے درخواست کریں گے کہ نئی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کے مطابق صدر پاکستان کو 29 فروری تک قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہے۔

قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس

قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس موجودہ اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت منعقد ہو گا اور سب سے پہلے ارکان اسمبلی سے حلف لیا جائے گا جس کے بعد سیکریٹری اسمبلی تمام ارکان کے ناموں کا اندراج کریں گے اور پھر ان سے دستخط کرائے جائیں گے جس کے بعد اسمبلی ہال میں موجود تمام ارکان اپنے ناموں کے حساب سے نشستوں پر براجمان ہو جائیں گے۔

بعد ازاں اسپیکر آئندہ اسمبلی کے لیے اسپیکر کے انتخاب کا شیڈول جاری کریں گے اور اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔ عمومی طور پر اسپیکر کا انتخاب اسی روز یا پھر اگلے ہی روز کر دیا جاتا ہے۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب

قومی اسمبلی کے اجلاس کے اگلے روز موجودہ اسپیکر کی نگرانی میں نئے اسپیکر کا انتخاب ہو گا جس کے بعد نو منتخب اسپیکر سے موجودہ اسپیکر حلف لیں گے۔ پھر نومنتخب اسپیکر جیت کر ایوان میں پہنچنے والے ارکان کو مبارکباد پیش کریں گے۔ اس موقع پر پارلیمانی لیڈرز اظہار خیال کریں گے۔

ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب

بعد ازاں اسپیکر کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا اور نو منتخب اسپیکر کی نگرانی میں نئے ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہو گا۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گا جس کے بعد قومی اسمبلی میں قائد ایوان یا وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اسپیکر شیڈول جاری کریں گے اور اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔

وزیراعظم کا انتخاب

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی جماعتیں اسپیکر کو تحریری طور پر آگاہ کریں گی کہ ہماری تعداد ایوان میں زیادہ ہے اور ہم فلاں رکن کو وزیراعظم مقرر کرتے ہیں، وزیراعظم یا قائد ایوان کے لیے 2 سے 3 امیدوار ہوتے ہیں اور ساتھ ہی درخواست کی جائے گی کہ ہمیں حکومتی نشستیں الاٹ کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک اور سیم آلٹ مین میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اختلاف، دولت اور پیسے کے کردار پر بحث

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے ہڑتال کا اعلان: پیٹرولیم وزیر کے استعفے کے مطالبے سمیت چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

ن لیگ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں میدان مار لیا، نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات

اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، عباس عراقچی کو دورہ پاکستان کی دعوت

پلاسٹک آلودگی سے زراعت، معیشت اور انسانی صحت متاثر ہونے لگی

ویڈیو

ن لیگ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں میدان مار لیا، نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات

اسلام آباد میں احتجاج کی کال: مارگلہ کے دامن میں پھر سے کنٹینرز کے ’پہاڑ‘ کھڑے ہوگئے

آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات کے دو مراحل مکمل، نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش، وزیراعظم کون بنے گا؟

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ