کراچی میں جرائم کی تناسب سے مقدمات کی بھرمار ہے، جس سے عدالتوں کو کافی دباؤ کا سامنا رہتا ہے، آئے روز ڈکیتی، قتل، اقدام قتل، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان سمیت انواع و اقسام کے مقدمات کے لیے ہزاروں شہری عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن آج ایک انوکھے کیس کا فیصلہ سامنا آیا جس میں ایک گداگر خاتون نے دوسری گداگر خاتون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
یہ میرا علاقہ ہے یہاں کوئی اور بھیک نہیں مانگے گا
ایک خاتون گداگر نے کراچی کی مقامی عدالت سے رجوع کیا اور درخواست دائر کی کہ میرے علاقے میں صرف میں بھیک مانگوں گی، دوسرے مانگنے والے گداگروں کو میرے علاقے میں بھیک مانگنے سے روکا جائے، حد بندی کے تعین کا اس معاملے پر آج فیصلہ سنایا۔
مزید پڑھیں
عدالت نے گداگروں کی درخواست مسترد کر دی اور فاضل جج سہیل احمد نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ کوئی زمین یا ملکیت کا تنازع نہیں اور شہر کی فٹ پاتھ گداگروں کی بھی نہیں جس پر شنوائی کی جائے۔ درخواست گزار نے عدالت کو استدعا کی کہ سعید آباد تھانے کی حدود میں ایک ایریا میرے پاس ہے دوسرے گداگر وہاں قبضہ کرنا چاہتے ہیں، قبضے کے اعتبار سے وہاں آتے ہیں اور مجھے ہراساں کرتے ہیں، دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔
پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ کوئی زمین یا ملکیت پر قبضے کا تنازع نہیں، گداگروں کے 2 گروپوں میں حد بندی کا معاملہ ہے، جو غیر قانونی ہے، عدالت نے پولیس رپورٹ کے بنیاد پر درخواست رد کر دی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق یہ معاملہ دکھاتا ہے کہ کیسے معاشرتی مسائل قانونی اور انتظامی چیلنجز کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ گداگروں کے درمیان حد بندیوں کا تنازع ایک غیر معمولی مسئلہ ہے جسے عدالت نے زمین یا ملکیت کے قانونی دعویٰ کے طور پر دیکھنے سے انکار کردیا ہے۔ فٹ پاتھ عوامی جگہ ہوتی ہے اور اس پر کسی ایک گروہ کا حق نہیں بنتا، اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانونی نظام معاشرتی عمل کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش میں محدودیت کا شکار ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب یہ تقاضے غیر روایتی اور غیر متوقع ہوں۔ اس طرح کے معاملات میں انتظامیہ کو مزید مداخلت کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ معاشرتی اور اقتصادی مسائل کا بہتر حل تلاش کیا جا سکے۔

















