امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرتے ہوئے ایران کے مختلف علاقوں میں فوجی اہداف پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان یعنی سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے 7 گھنٹے پر محیط کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
ان حملوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری اثاثے اور ساحلی دفاعی نظام شامل تھے، یہ کارروائی ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک، بامپور، چابہار، بندر عباس، اہواز اور جزیرہ قشم سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
U.S. forces resumed the naval blockade against vessels transiting to and from Iranian ports and coastal areas today at 4 p.m. ET.
There are currently more than 20 U.S. Navy warships and hundreds of military aircraft operating across the Middle East. American forces remain… pic.twitter.com/ATRJHlLQNo
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 14, 2026
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی ہتھیاروں کو تباہ کر دیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل کو مذاکرات ہوئے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران پر امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ اسے کافی قرار نہ دیدیں۔
مزید پڑھیں: ایران میں فوجی تنصیبات پر مزید امریکی حملے، تہران کا خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے متعلق اپنے سابقہ بیان سے بھی پسپائی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے۔
ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
اس دوران غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 7 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جبکہ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 34 نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کے لیے 434 ملین ڈالر بجٹ کی منظوری بھی دے دی ہے۔











