سنہ 1977 میں پاکستان کرکٹ ٹیم 19 سال بعد ویسٹ انڈیز میں دوسری دفعہ ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے گئی تو میزبان ٹیم کے نئے فاسٹ بولر کولن کرافٹ نے پاکستانی بیٹرز کا کھیلنا محال کر دیا تھا۔ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 20.48 کی اوسط سے 33 وکٹیں لے کر اپنی سرزمین پر سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ قائم کیا اور مجموعی طور پر ویسٹ انڈیز کی طرف سے سیریز میں سب سے زیادہ 33 کھلاڑی آؤٹ کرنے کا ویلنٹائن کا ریکارڈ بھی برابر کردیا جسے انہوں نے 1950 میں انگلینڈ میں بنایا تھا۔
دلچسپ بات ہے دونوں نے یہ کارنامہ اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز میں انجام دیا تھا۔ لیفٹ آرم اسپنر ویلنٹائن نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں حریف ٹیم کی پہلی اننگز میں 8 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ برق رفتار کولن کرافٹ نے پورٹ آف اسپین میں یہ کام اپنے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف کیا۔
کولن کرافٹ کے ساتھ اینڈی رابرٹس سا تجربہ کار اور جوئیل گارنر سے نوجوان فاسٹ بولر بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے اعصاب کا امتحان لینے کے لیے موجود تھے۔ پاکستان ٹیم کے لیے یہ بات باعث عافیت تھی کہ مائیکل ہولڈنگ ان فٹ ہونے کی وجہ سے سیریز میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔
عمران خان نے ’آل راؤنڈ ویو‘ میں پاکستانی بیٹرز کے ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولرز سے خائف ہونے کے بارے میں بتایا ہے جن میں ٹیم کے کپتان مشتاق محمد بھی شامل تھے۔
اس ٹیسٹ سیریز کے تیسرے میچ میں ماجد خان کی ایک ناقابلِ فراموش اننگز کی کہانی ہم نے بیان کرنی ہے جس میں انہوں نے کولن کرافٹ کو للکارا اور ان کے خوف کا حصار توڑ ڈالا تھا۔ اسے ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بہترین اننگز قرار دیا جاتا ہے، اس پر بات کرنے سے پہلے تھوڑا پس منظر بیان کرنا ضروری ہے۔
برج ٹاؤن میں سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ماجد خان نے 88 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ جوئیل گارنر نے اپنی کتاب ’بگ برڈ، فلائنگ ہائی‘ میں اس کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ اینڈی رابرٹس کی شارٹ پچ گیندوں کو اس سہولت سے کھیل رہے تھے جیسے وہ آدھی اسپیڈ سے بولنگ کررہے ہوں۔ گارنر کے اس بیان کی اہمیت یوں مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم اس سیریز سے پہلے رابرٹس کے مختلف ملکوں کے خلاف بولنگ کے شاندار کارناموں پر نظر ڈالتے ہیں۔
سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ماجد خان نے پہلی اننگز میں 47 اور دوسری میں 54 رنز بنائے تھے۔
کنگسٹن میں تیسرے ٹیسٹ میچ میں 254 رنز کے خسارے کے ساتھ پاکستان نے دوسری اننگز شروع کی تو پاکستان کے ہارنے کے آثار نمایاں تھے، لیکن ماجد خان کے ارادے کچھ اور ہی تھے اور وہ کرافٹ کی بولنگ کے سامنے اپنے کھلاڑیوں کو پس پا ہوتے دیکھ کر بہت غصے میں تھے۔ ماجد خان کرافٹ کی طوفانی بولنگ کے سامنے بند باندھنے کا تہیہ کر چکے تھے جس کا اظہار انہوں نے بیٹنگ پر جانے سے پہلے پیڈز پہنتے ہوئے کر دیا تھے۔
اقبال قاسم نے اپنی کتاب ’اقبال قاسم اور کرکٹ‘ میں لکھا ہے:
’خان صاحب کو میں نے پہلی بار اتنے غصے میں دیکھا اور پہلی بار میں ان کو ایسی باتیں کرتے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ دماغ خراب کردیا، اس مردود نے۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ غصہ کس بات پر ہے، اب شاید ان کو بھی احساس ہوا میری جانب دیکھا اور بولے، آج دیکھتا ہوں، اس کرافٹ کے بچے کو، بڑا چیمپیئن بن گیا ہے، آج یا تو وہ نہیں، یا میں نہیں۔ میں بڑا حیران تھا خان صاحب کا یہ روپ بھلا میں نے کب دیکھا تھا؟ ماجد بھائی کو غصہ بہت کم آتا تھا۔ ان کی شخصیت کسی سمندر سے زیادہ گہری ہے جس میں تلاطم نہیں ہوتا لیکن اگر طوفان اٹھے تو بڑے بڑے جہازوں کو الٹ دیتا ہے۔‘
بہرکیف وہ غصے میں وکٹ پر پہنچے اور انہوں نے اپنی بھرپور قوت سے گیند کو پیٹنا شروع کر دیا، خصوصاً کرافٹ اور رابرٹس کی انہوں نے ایسی مرمت کی کہ اس سے پہلے کبھی کسی بیٹسمین نے نہ کی ہو گی۔ ماجد نے 167 رنز بنائے اور پاکستان کو مشکل سے نکال دیا، میچ ڈرا ہوگیا۔
تگڑے حریف کے خلاف دلیری سے کچھ کر کے دکھایا جائے تو کرکٹ ہی پر کیا موقوف کسی بھی میدان میں ایسی دلیری کو یاد رکھا جاتا ہے۔ ماجد خان کی یہ اننگز بھی ایسا ہی کچھ معاملہ ہے۔ اسے کرکٹ مبصرین اور ساتھی کرکٹروں نے ہمیشہ یاد رکھا، اس کا ذکر کرتے رہے اور اس کے بارے میں لکھا بھی۔
وزڈن نے 1978 کے ایڈیشن میں اپنی ٹیم کو ہار سے بچانے والی اس اننگز کو سراہا ہے۔ اس کٹھن سفر میں انہوں نے رابرٹس کی گیند پر اپنے ساتھی اوپنر صادق محمد کو جبڑے پر گیند لگنے کے باعث میدان سے باہر جاتے دیکھا جس کے بعد انہوں نے ظہیر عباس کے ساتھ مل کر 159 رنز جوڑے۔ 25 چوکوں کی مدد سے وہ 167 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان ٹیم پر شکست کے منڈلاتے بادل چھٹ چکے تھے۔
پاکستان کے کپتان مشتاق محمد نے اپنی کتاب ’ان سائیڈ آؤٹ‘ میں اس اننگز کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے ماجد خان کا اس سے بہتر کھیل نہیں دیکھا جس میں ان کی اسٹریٹ ڈرائیو، کٹ اور پل شاٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔
دلچسپ بات ہے کہ 167 ٹیسٹ کرکٹ میں ماجد کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور ہے تو دوسری طرف بولنگ میں ان کی بہترین کارکردگی بھی اسی ٹیسٹ میں سامنے آئی جب انہوں نے آف اسپن بولنگ سے 45 رنز دے کر 4 کھلاڑی آؤٹ کیے جن میں گورڈن گرینج اور کلائیو لائیڈ کی قیمتی وکٹیں شامل تھیں۔
پورٹ آف اسپین میں چوتھے ٹیسٹ میں ماجد خان نے عمدہ بیٹنگ کی اور 14 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 92 رنز بنائے جب کہ ان کے ساتھی اوپنر صادق محمد کھاتا کھولے بغیر آؤٹ ہوگئے تھے۔ ماجد خان کے علاوہ کپتان مشتاق محمد نے عمدہ بیٹنگ کی اور 121 رنز بنائے، یوں پاکستان 341 رنز بنانے میں کامیاب رہا۔ مشتاق محمد نے دوسری اننگز میں بھی 56 رنز اسکور کیے تھے۔
بولنگ میں بھی وہ خوب کامیاب رہے۔ ٹیسٹ میچ میں 8 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ گیری سوبرز کے بعد دوسرے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے دو دفعہ ٹیسٹ میچ میں سینچری کے ساتھ اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ پاکستان نے اس ٹیسٹ میچ میں حریف ٹیم کو 266 رنز سے شکست دی تھی۔
یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ پاکستان نے 1958 میں ویسٹ انڈیز میں پہلی مرتبہ پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی تھی تو اس میں حنیف محمد اور وزیر محمد قومی ٹیم کا حصہ تھے۔ پاکستان نے اس میچ میں ویسٹ انڈیز کو ایک اننگز اور ایک رن سے ہرایا تھا۔ وزیر محمد نے 189 اور حنیف محمد نے 54 رنز بنا کر ٹیم کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ 19 سال بعد پاکستان نے اسی مقام پر ویسٹ انڈیز کو اس کی سرزمین پر دوسری بار ہرایا تو حنیف محمد اور وزیر محمد کے چھوٹے بھائی مشتاق محمد اور صادق محمد ٹیم کا حصہ تھے، اس میچ کے اصل ہیرو مشتاق محمد تھے۔
عمران خان نے لکھا ہے کہ ماجد ہی وہ کھلاڑی تھے جنہوں نے اس دورے میں سب سے بہتر انداز میں تیز رفتار بولنگ کو ہینڈل کیا تھا۔ پانچویں ٹیسٹ میں انہیں اینڈی رابرٹس کی تیز رفتار بولنگ نے پریشان کیا تو اس کا اثر باقی کے بیٹرز پر بھی پڑا اور وہ میدان میں اترنے سے پہلے خوفزدہ ہو گئے تھے۔
ان کا حال غالب کے اس مصرعے کے مصداق تھا:
اڑنے سے پیش تر بھی مرا رنگ زرد تھا
اس ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی طرف سے ماجد خان نے سب سے زیادہ 530 رنز بنائے، وسیم حسن راجا 517 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
برج ٹاؤن میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں وسیم راجا نے پہلی اننگز میں ناقابل شکست 117 رنز بنائے (اس سے پہلے وہ کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بغیر آؤٹ ہوئے سینچری بنا چکے تھے)، دوسری اننگز میں 71 اسکور کر کے لڑکھڑاتی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دیا۔
پاکستان یہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے قریب آ گیا، پاکستان نے مخالف ٹیم کے 9 کھلاڑی آؤٹ کر لیے تھے لیکن میچ آخر کار ویسٹ انڈیز ہارنے سے بچ گیا، امپائروں نے اپنے ملک کو شکست سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اقبال قاسم نے اپنی کتاب میں لکھا ’کرافٹ کئی دفعہ صاف ایل بی ڈبلیو ہوئے لیکن امپائر نے مقامی شائقین کا دل توڑنا مناسب نہ سمجھا حالاں کہ کرافٹ ہمیشہ وکٹوں کے سامنے ٹانگیں ملا کر کھیلنے کے عادی ہیں۔ امپائر خواہ کسی ملک کے ہوں ایسے نازک موقعوں پر ہمیشہ اپنے ملک کا ساتھ دیتے ہیں۔‘
وسیم راجا کو ویسٹ انڈین عوام میں خاصی مقبولیت ملی۔ ان کے جارحانہ بیٹنگ اسٹائل سے مایہ ناز کرکٹر روہن کنہائی بھی متاثر ہوئے۔ وسیم حسن راجا نے اس سیریز میں 14 چھکے مارے جس سے ان کے جارحانہ مزاج کا پتا چلتا ہے۔ پاکستان کی 10 میں سے 5 اننگز میں وہ ٹاپ اسکورر تھے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے اپنے کیریئر میں 11 ٹیسٹ میچوں میں 57.43 کی اوسط سے 919 رنز بنائے، ان کے ہم عصروں میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈینس ایمس اور سنیل گواسکر کی اوسط ہی ان سے بہتر تھی۔
وسیم راجا کی آخری قابل ذکر سیریز ویسٹ انڈیز کے خلاف تھی جس میں انہوں نے 61.50 کی اوسط سے 246 رنز اسکور کیے تھے۔
پاکستان کے عظیم کھلاڑیوں میں ظہیر عباس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 8 ٹیسٹ میچوں میں 18.50 کی اوسط سے رنز بنائے جبکہ جاوید میانداد کی 16 ٹیسٹ میچوں میں 29.78 کی اوسط رہی، البتہ 1988 میں ویسٹ انڈیز میں میانداد نے مسلسل 2 ٹیسٹ میچوں میں سینچری بنا کر ثابت کر دیا کہ وہ ویسٹ انڈیز کی بولنگ کے طوفانی حملوں کا جی داری سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔
سنہ 1977 کی سیریز میں ماجد خان اور وسیم حسن راجا کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو اول الذکر کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ انہوں نے اوپنر کی حیثیت سے رنز بنائے جبکہ وسیم راجا نے ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور کیا تھا۔
تازہ دم ویسٹ انڈین تیز رفتار بولروں کا نئی گیند سے مقابلہ کرنا ’اوکھلی میں سر دینے‘ کے مترادف تھا، چھٹے ساتویں نمبر پر جب آپ بیٹنگ کے لیے آتے ہیں تو بولرز میں پہلے سا دم خم نہیں ہوتا، گیند پرانی ہو چکی ہوتی ہے اور اس زمانے میں ریورس سوئنگ کا چلن بھی نہیں تھا۔ ویسٹ انڈین ٹیم میں رامادھن، ویلنٹائن اور لانس گبز جیسے عظیم اسپنر بھی نہیں تھے جو پرانے گیند سے بیٹرز کو مشکلات سے دوچار کر سکتے۔
ان باتوں کا مقصد وسیم حسن راجا کی کارکردگی کو چھوٹا کرکے دکھانا نہیں بلکہ اوپنر کی پوزیشن کی اہمیت اور مشکلات واضح کرنا ہے اور اس کے لیے میرے خیال میں پاکستان کے سابق اوپنر مدثر نذر کی رائے زیادہ معتبر ٹھہرے گی جنہوں نے کرک انفو کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں نچلے نمبروں پر کھیلنا بہت آسان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اس پوزیشن پر باری آتی تو بولر تھکے ہوتے اور بال نرم پڑ چکا ہوتا تھا۔ چھٹے نمبر پر تھامپسن کا سامنا کیا تو وہ انہیں میڈیم پیسر لگے۔ اس بنیاد پر مدثر نذر نچلے نمبروں پر کھیلنے والے اسپیشلسٹ بیٹرز کو عظیم کھلاڑی نہیں گردانتے تاوقتیکہ کوئی گیری سوبرز جیسا یکتا ہو جو بہت زیادہ بولنگ بھی کرتے تھے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













