آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر 13 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کے حکام اور جموں وکشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہزاروں احتجاجی مظاہرین اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے اسمبلی کی عمارت کے سامنے احتجاج کی غرض سے مظفر آباد کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

‎ اتوار  کی رات آزاد کشمیر  کے جنوبی ضلع کے شہر راولاکوٹ میں 4 گھنٹے تک جاری رہنےوالے ان مذاکرات میں وزیر اعظم انوار الحق، سینئر ترین وزیر کرنل وقار نور، چیف سیکریٹری اور جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان شامل تھے، چیف سیکریٹری راولاکوٹ میں موجود تھے جبکہ وزیراعظم اور سینئر ترین وزیر اور پاکستانی حکام اسلام آباد سے بذریعہ زوم شریک ہوئے۔

‎ بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے ختم ہونے والے ان مذاکرات  کے دوران جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رکن عمر نذیر نے تین اہم مطالبات پر زور دیا؛ پیداواری لاگت پر بجلی کی فراہمی، 20 کلو  آٹے کے تھیلے کی قیمت 1000 روپے، اور عدالتی احکامات کے مطابق سیاسی اشرافیہ کی مراعات میں کمی۔

عمر نذیر انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں حکام اور عوامی نمائندوں کو 1300 سی سی کاریں استعمال کرنی چاہییں۔، ان کے مطابق حکومت نے آٹے پر سبسڈی میں 1000 روپے اضافے پر اتفاق کیاجس کے بعد 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2000 ہزار روپے ہوگی۔

لیکن عمر ںذیر کے مطابق حکومتی ارکان مراعات میں کمی اور بجلی کے نرخوں کو پیداواری لاگت تک کم کرنے کے ضمن میں کسی وعدے سے ہچکچا رہے تھے، بجلی کی نرخوں کے بارے میں  حکام کا موقف تھا کہ انہیں حکومت پاکستان کے ساتھ اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

‎ ’ہم ایک سال سے احتجاج کر رہے تھے اور حکومت آزاد کشمیر کے پاس مسئلہ حل کرنے کے لیے کافی وقت تھا لیکن حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی، لہذا اب انہیں مزید وقت نہیں دیا جاسکتا، حکومتِ کشمیر عوام کو ریلیف دینے پر آمادہ نظر نہیں آتی اور اپنی مراعات پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔‘

‎ڈپٹی کمشنر سردار وحید خان نے بتایا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کو آٹے پر سبسڈی میں 1000 روپے اضافے اور بجلی کے بلوں میں 30 فیصد کمی کی پیشکش کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ مراعات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو  وزراء اور ارکان اسمبلی اور افسروں کی مراعات کا جائزہ لے کر فیصلے کریں گی۔

‎ایکشن کمیٹی کے ایک اور رکن شوکت نواز میر کے مطابق اگرانہیں بجلی، آٹے کی سبسڈی اور اشرافیہ کی مراعات کے حوالے سے نوٹیفیکیشن مل جاتے تووہ اپنی احتجاجی کال پر دوبارہ غور کرنے کے لیے تیار تھے، تاہم جب ان مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ ڈٹے رہے اور واضح کیا کہ جزوی حل ناقابل قبول ہیں۔

’اگر ہمارے مطالبات مانے گئے تو ہم مظفرآباد جانے سے قبل رات بھر دھیرکوٹ میں قیام کریں گے، حکام بات چیت کریں، نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے لیے کافی وقت ہے، یہ نوٹیفکیشن مظفرآباد میں بھی لے سکتے ہیں، ہمارا مقصد تصادم نہیں بلکہ عوام کی شکایات کا ازالہ ہے۔‘

‎ شوکت نواز میر نے بتایا کہ آٹے کی سبسڈی کے حوالے سے ایک امید افزا پیشکش کی گئی ہے، تاہم انہوں نے اس وقت مزید تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔

‎اتوار کے روز مظاہرین کی بڑی تعداد آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع سے راولاکوٹ پہنچی اور وہاں جموں و کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت آزاد کشمیر  کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد مظاہرین رات کو ہی مظفرآباد کی طرف روانہ ہو گئے انہوں نے  رات مظفرآباد سے 58 کلو میٹر کے فاصلے پر دھیر کوٹ میں قیام کیا۔

مظاہرین کی جانب سے مظفرآباد پیش قدمی کے پیش نظر حکومتِ آزاد کشمیر نے دارالحکومت مظفرآباد سے 35 کلومیٹر پہلے کوہالہ کے مقام پر رینجرز اور آزاد کشمیر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات  کر دیا ہے تاکہ مظاہرین کو مظفرآباد میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں