اسرائیلی فوجی کارروائی: رفح چھوڑنے پر مجبور 8لاکھ لوگ دربدر

اتوار 19 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کی عسکری کارروائی شروع ہونے کے بعد غزہ کے جنوبی علاقے رفح سے 8لاکھ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بے گھر ہونے والوں کو تحفظ اور انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

’انرا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر غزہ کی بہت بڑی آبادی دربدر ہو گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے رفح کو خالی کرنے کا حکم دیے جانے کے بعد لوگ وسطی غزہ اور خان یونس کا رخ کر رہے ہیں جنہوں نے تباہ شدہ عمارتوں سمیت جہاں جگہ ملے پناہ لے رکھی ہے۔

نقل مکانی کرنے والے حملوں کی زد میں ہیں

ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ محفوظ راستے یا تحفظ کے بغیر نقل و حرکت کرتے ہیں تو وہ حملوں کی زد میں ہوتے ہیں۔ انہیں ہر مرتبہ نئے سرے سے زندگی شروع کرنا پڑتی ہے۔ رفح سے نکلنے والے لوگ جن علاقوں کا رخ کر رہے ہیں وہاں نہ تو صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی نکاسی آب کی سہولیات موجود ہیں۔

ہنگامی انسانی امداد پہنچانے کا بھی کوئی انتظام نہیں

اسرائیل نے لوگوں کو جنوبی ساحلی علاقے المواسی کی جانب جانے کا حکم بھی دے رکھا ہے، تاہم اس جگہ نہ تو کوئی عمارت ہے اور نہ ہی سڑکوں کا کوئی وجود ہے۔ 14 مربع کلومیٹر زرعی علاقے میں لوگوں کو محفوظ اور باوقار انداز میں ہنگامی انسانی امداد پہنچانے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ حالیہ جنگ سے قبل تقریباً 4لاکھ لوگ المواسی میں مقیم تھے۔ تاہم اب یہاں بہت بڑی تعداد میں پناہ گزین بھی آ چکے ہیں اور مزید لوگوں کی گنجائش نہیں رہی۔

محفوظ علاقہ ندارد

فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ غزہ کے لوگ ’محفوظ‘ علاقوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ جب بھی ایسے احکامات دیے جاتے ہیں تو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی محفوظ علاقہ نہیں ہے اور کسی بھی جگہ کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انسانی امداد اور بنیادی ضرورت کی اشیا نہ ہونے کے باعث حالات بدترین صورت اختیار کر رہے ہیں۔ امدادی اداروں کے پاس لوگوں کو فراہم کرنے کے لیے خوراک اور دیگر اشیا باقی نہیں رہیں۔

غزہ بھر میں ایندھن کی شدید قلت

مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد تاحال بند ہے جبکہ کیریم شالوم کا سرحدی راستہ عسکری کارروائیوں کی زد میں ہونے کے باعث غیرمحفوظ ہے۔ غزہ بھر میں ایندھن کی شدید قلت ہے جس کے باعث امداد کی تقسیم کا کام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

زمینی راستوں کی اہمیت

انہوں نے بتایا ہے کہ 6مئی کے بعد جنوبی غزہ میں صرف 33 امدادی ٹرک ہی داخل ہو سکے ہیں، جو کہ بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرچہ غزہ کے ساحل پر امریکا کی تعمیر کردہ تیرتی گودی پر امداد کی پہلی کھیپ کا پہنچنا خوش آئند ہے لیکن یہ زمینی راستوں کا متبادل نہیں ہے جو امداد پہنچانے کا سب سے زیادہ قابل عمل، مؤثر اور محفوظ ذریعہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم