’وہ پری کہاں سے لاؤں‘، مصنوعی ذہانت سنیاسی پودے کی فیمیل پارٹنر کی تلاش میں سرگرداں

بدھ 29 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں ایک ایسا پودا بھی ہے جس کی کوئی فیمیل پارٹنر نہیں ہے اور اس وجہ سے اب اس کی نسل آگے نہ بڑھنے کے سبب وہ جلد یا بدیر ناپید ہوجانے کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت نے اب اس بات کا بیڑا اٹھا لیا ہے کہ دنیا کے اس تہنا ترین پودے کے لیے کوئی مادہ ساتھی تلاش کی جائے تاکہ ان کا اس زمین پر کوئی نام لیوا و وارث سلامت رہے۔

ساؤتھمپٹن ​​یونیورسٹی کی قیادت میں ایک تحقیقی منصوبہ جنوبی افریقہ میں ہزاروں ایکڑ جنگلات کی چھان بین کر رہا ہے جہاں یہ گبرو جوان پایا جاتا ہے جسے ای ووڈی کہتے ہیں۔ پام درخت کی طرح کا یہ پودا نر ہے اور قدرتی طور پر اس کی افزائش نہیں ہو سکتا۔

یہ قدیم نسل ڈائنوسار سے پہلے کی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیارے پر سب سے زیادہ خطرے سے دوچار جانداروں میں سے ایک ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن ​​کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر لارا سنٹی ای ووڈی کی ’دلہن‘ کی تلاش کے لیے ڈرون اور مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کے پہلے پروجیکٹ کی سربراہی کر رہی ہیں۔

عاشق نامراد درخت

ڈاکٹر لارا کا کہنا ہے کہ ای ووڈی کی کہانی سے بہت متاثر ہوئی ہیں اور وہ انہیں ایک ناکام عشق کی داستان جیسی لگتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کہیں کوئی مادہ ضرور موجود ہو گی کیوں کہ وہ کبھی نہ کبھی تو رہی ہی ہوگی (تب ہی تو قدرتی طور پر یہ پودے مزید پیدا ہوئے) ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مادہ مل جائے اور اس نر پودے سے اس کا ملاپ ہوجائے تو یہ بہت ہی زبردست بات ہوگی کیوں کہ ای ووڈی اب معدومیت کے دہانے پر موجود ہے۔

واحد معروف مجرد پودا ای ووڈی سنہ 1895  میں جنوبی افریقا کے این گوائے جنگل میں دریافت ہوا تھا۔ یہ اب تک صرف ایک نر پایا گیا ہے اور تمام بعد میں پھیلائے گئے اس کے نمونے نر کلون ہیں یعنی پودا قدرتی طور پر دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا۔

جنگل کی ڈرون امیجنگ کا تجزیہ اے آئی کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ جس میں اب تک 10,000 ایکڑ رقبے میں سے 2 فیصد سے بھی کم رقبہ کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر  لارا ساتھ کا کہنا ہے کہ ہم شکل کے لحاظ سے پودوں کو پہچاننے کے لیے تصویر کی شناخت کا الگورتھم استعمال کر رہے ہیں۔

دنیا کا تنہا ترین پودا

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے پودوں کی تصاویر تیار کیں اور انہیں مختلف ماحولیاتی ترتیبات میں رکھا، تاکہ ماڈل کو ان کو پہچاننے کی تربیت دی جا سکے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگل میں اس سے پہلے کبھی مکمل طور پر اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ آیا کوئی مادہ موجود ہے یا نہیں۔

اس پودے کو لندن کے کیو کے رائل بوٹینیکل گارڈنز میں کلوننگ کے ذریعے اگایا اور پھیلایا جاتا ہے جہاں اسے ’دنیا کا تنہا ترین پودا‘ کا نام دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

پاکستانی گانوں پر ناروے کا آرٹسٹ بھی جھوم اٹھا، لاہور کی سُرتال اکیڈمی کے بچوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

صائمہ بی بی قتل کیس، سپریم کورٹ نے عمر قید کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

17 لاکھ کی گیس چوری کا ثبوت کہاں ہے؟ وفاقی آئینی عدالت کا ایس این جی پی ایل پر اظہارِ برہمی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں