آزاد کشمیر میں کوٹھیاں دھرنے کے قریب پیش آنے والے ایک فائرنگ کے واقعے نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام نہاد ’پرامن احتجاج‘ کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہید آباد (باغ) کے رہائشی احسان اختر ولد اختر کو لگنے والی گولی کسی سیکیورٹی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے اپنے ہی مسلح ساتھی کی پستول سے چلی تھی، جس نے ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر پر مشتمل ہونے کو واضح کر دیا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس افسوسناک حادثے کو سیکیورٹی فورسز سے منسوب کرنے کے لیے من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا گیا، جسے عوام سے ہمدردی بٹورنے اور سستا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا گھٹیا ترین ہتھکنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی کسی بھی نقل و حرکت یا مداخلت کے بغیر اس حادثے کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنے کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بدنام کرنا ہے۔
مبصرین اور حلقوں کا کہنا ہے کہ امان، عمر نذیر اور مہران جیسے عناصر اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہمیشہ سیکیورٹی فورسز پر بہتان تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، چاہے حقیقت اس کے برعکس ہو۔ احسان اختر کے واقعے کو منفی رنگ دینا بھی اسی سوچی سمجهی پالیسی کا حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد علاقائی امن کو تباہ کرنا، عوام میں ہیجان پھیلانا اور اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے کہ نام نہاد ایکشن کمیٹی کے پاس نہ تو کوئی مثبت ایجنڈا ہے اور نہ ہی عوامی خیر خواہی کا کوئی تصور بلکہ ان کی تمام تر جدوجہد جھوٹے بیانیوں، مسلح ہتھکنڈوں اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر افشانی پر مبنی ہے۔










